پڑھا ہے ہم نے سبق ہر گھڑی صداقت کا
پڑھا ہے ہم نے سبق ہر گھڑی صداقت کا
اسی لیے تو یہ ہم پر اثر ہے رحمت کا
میں سچ کو جھوٹ کی بوتل میں بند کر لوں گا
مرے گلے میں بھی تعویذ ہے سیاست کا
مری نگاہ بھلا کیوں نہ ہو مقدس تر
میں روز کرتا ہوں دیدار اپنی جنت کا
میں بچ گیا ہوں مرا نام غازیوں میں لکھو
ارادہ کر کے تو نکلا تھا میں شہادت کا
جبین شوق کے سجدوں کا لطف یا اللہ
وہ مرحلہ بھی عجب تھا تری رفاقت کا
ابھی تلک ہے تخیل میں نور کی بارش
خیال آیا تھا اک دن تمہاری مدحت کا
لو آج وقت کی ٹھوکر میں آ گئے ہیں نوابؔ
نشہ تھا جن کے دماغوں میں بادشاہت کا