Khwaja Rabbani

خواجہ ربانی

  • 1956

خواجہ ربانی کی نظم

    تشکیل

    میں ٹھنڈی برف کے ذروں سے پھر سے بن رہا ہوں تمہارے قرب کی حدت سے پانی ہو گیا تھا مگر اب پھر مری تشکیل ہونے جا رہی ہے میں پھر سے بن رہا ہوں تمہارے پیار کی حدت یقیناً روح ہے میری مگر یہ میرے ایک اک عضو کو پگھلا کے آب و آب کر دے گی یہ بہتر ہے کہ تم سے فاصلہ ہو نہ کوئی رابطہ ہو یہ حدت پھر ...

    مزید پڑھیے

    خواہش

    یہ کیا پاگل تمنا ہے جو سوچو میں اتر گئی ہے پروں میں اک اجنبی ہوا بھر گئی ہے شام کے دھندلکے سے کہنا پڑے گا گھر لوٹنے کی خواہش مر گئی ہے

    مزید پڑھیے

    شمسہ

    وہ نرگس بھی ہیرا بھی شمع بھی ایوان بھی تھا کتابوں میں خود تذکرہ سر ورق نفس مضمون دیبا بھی شمسہ بھی عنوان بھی تھا ابھی کچھ برس قبل اندر کے صفحوں پہ ٹھہرا ذرا دیر گزری تو صفحے پہ نیچے کی سطروں میں اترا وہ اب حاشیے پر پڑا ہے خدا جانے کب کون اس کو پڑھے گا پڑھے گا کبھی کہیں دل میں اک خوف ...

    مزید پڑھیے

    حشر

    میں حیراں ہوں کہ کس منزل میں ہوں مری چاروں طرف اک بھیڑ سی ہے میں تنہا بھی نہیں ہوں مگر تنہائی سی محسوس ہوتی ہے تو کیا یہ حشر ہے سنا تھا حشر ہوگا ساری روحیں اک خدا ہوگا یہی موقع حساب و عدل کا ہوگا شفا کام آئے گی نہ رشتہ معتبر ہوگا سمجھ میں یہ نہیں آتا خدا میں ہوں یا یہ سب ہیں یہ سب کے ...

    مزید پڑھیے

    بینا

    میں اکثر سوچتا ہوں مرے چشمے کا نمبر بڑھ رہا ہے مجھے اطراف کی چیزیں بھی کم دکھنے لگی ہیں بہت مانوس چہرے تھے وہ گم ہونے لگے ہیں مگر شاید حقیقت اور کچھ ہے میں اس منظر سے غائب ہو رہا ہوں

    مزید پڑھیے