حکومت ہے نہ شوکت ہے نہ عزت ہے نہ دولت ہے
حکومت ہے نہ شوکت ہے نہ عزت ہے نہ دولت ہے ہمارے پاس اب لے دے کے باقی بس ثقافت ہے گنے جاتے ہیں جو دہلیز کے بجھتے چراغوں میں انہیں ایوان کی محراب میں جلنے کی عادت ہے چلو خیرات نہ ملتی کوئی کھڑکی ہی کھل جاتی فقیروں کو محلے سے بس اتنی سی شکایت ہے بھرم دونوں کا قائم ہے ادائے بے نیازی ...