Khwaja Rabbani

خواجہ ربانی

  • 1956

خواجہ ربانی کی غزل

    حکومت ہے نہ شوکت ہے نہ عزت ہے نہ دولت ہے

    حکومت ہے نہ شوکت ہے نہ عزت ہے نہ دولت ہے ہمارے پاس اب لے دے کے باقی بس ثقافت ہے گنے جاتے ہیں جو دہلیز کے بجھتے چراغوں میں انہیں ایوان کی محراب میں جلنے کی عادت ہے چلو خیرات نہ ملتی کوئی کھڑکی ہی کھل جاتی فقیروں کو محلے سے بس اتنی سی شکایت ہے بھرم دونوں کا قائم ہے ادائے بے نیازی ...

    مزید پڑھیے

    لوگ اس ڈھب سے قصیدے میں اتر باندھتے ہیں

    لوگ اس ڈھب سے قصیدے میں اتر باندھتے ہیں صاحب صدر کے عیبوں کو ہنر باندھتے ہیں ہم ترے شہر کا جب عزم سفر باندھتے ہیں عادتاً کاندھوں پہ اپنے کئی سر باندھتے ہیں سوکھی شاخوں پہ نئے برگ و ثمر باندھتے ہیں قافیہ جب بھی نیا اہل ہنر باندھتے ہیں ان منڈیروں کے چراغوں کی عجب قسمت ہے جس میں ...

    مزید پڑھیے

    شجاعت کی مثالیں قبر کے پتھر میں رکھی ہیں

    شجاعت کی مثالیں قبر کے پتھر میں رکھی ہیں ہماری ساری شمشیریں عجائب گھر میں رکھی ہیں ہوا کی دشمنی سے حوصلے ٹوٹے نہیں اس کے اڑانیں تو پرندے کے شکستہ پر میں رکھی ہیں جسے چاہے دکھاتا ہے جسے چاہے مٹاتا ہے کہ تصویریں سبھی اب دست شیشہ گر میں رکھی ہیں چراغوں کے محلے میں بہت تیزی سے ...

    مزید پڑھیے

    یہ کیسا چھیر پڑا کاروبار میں اب کے

    یہ کیسا چھیر پڑا کاروبار میں اب کے سپاہی آنے لگے اقتدار میں اب کے ہوا چراغ جلانے کی بات کرتی تھی ہمیں بھی دیر لگی اعتبار میں اب کے بطور دست طلب جو اٹھائے جاتے رہے وہ ہاتھ آئے نہیں ہیں شمار میں اب کے تھے جس کی جیت کے حامی نہ جس کے کار گزار ہماری ہار ہوئی اس کی ہار میں اب کے نوید ...

    مزید پڑھیے