Khwaja Rabbani

خواجہ ربانی

  • 1956

خواجہ ربانی کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    حکومت ہے نہ شوکت ہے نہ عزت ہے نہ دولت ہے

    حکومت ہے نہ شوکت ہے نہ عزت ہے نہ دولت ہے ہمارے پاس اب لے دے کے باقی بس ثقافت ہے گنے جاتے ہیں جو دہلیز کے بجھتے چراغوں میں انہیں ایوان کی محراب میں جلنے کی عادت ہے چلو خیرات نہ ملتی کوئی کھڑکی ہی کھل جاتی فقیروں کو محلے سے بس اتنی سی شکایت ہے بھرم دونوں کا قائم ہے ادائے بے نیازی ...

    مزید پڑھیے

    لوگ اس ڈھب سے قصیدے میں اتر باندھتے ہیں

    لوگ اس ڈھب سے قصیدے میں اتر باندھتے ہیں صاحب صدر کے عیبوں کو ہنر باندھتے ہیں ہم ترے شہر کا جب عزم سفر باندھتے ہیں عادتاً کاندھوں پہ اپنے کئی سر باندھتے ہیں سوکھی شاخوں پہ نئے برگ و ثمر باندھتے ہیں قافیہ جب بھی نیا اہل ہنر باندھتے ہیں ان منڈیروں کے چراغوں کی عجب قسمت ہے جس میں ...

    مزید پڑھیے

    شجاعت کی مثالیں قبر کے پتھر میں رکھی ہیں

    شجاعت کی مثالیں قبر کے پتھر میں رکھی ہیں ہماری ساری شمشیریں عجائب گھر میں رکھی ہیں ہوا کی دشمنی سے حوصلے ٹوٹے نہیں اس کے اڑانیں تو پرندے کے شکستہ پر میں رکھی ہیں جسے چاہے دکھاتا ہے جسے چاہے مٹاتا ہے کہ تصویریں سبھی اب دست شیشہ گر میں رکھی ہیں چراغوں کے محلے میں بہت تیزی سے ...

    مزید پڑھیے

    یہ کیسا چھیر پڑا کاروبار میں اب کے

    یہ کیسا چھیر پڑا کاروبار میں اب کے سپاہی آنے لگے اقتدار میں اب کے ہوا چراغ جلانے کی بات کرتی تھی ہمیں بھی دیر لگی اعتبار میں اب کے بطور دست طلب جو اٹھائے جاتے رہے وہ ہاتھ آئے نہیں ہیں شمار میں اب کے تھے جس کی جیت کے حامی نہ جس کے کار گزار ہماری ہار ہوئی اس کی ہار میں اب کے نوید ...

    مزید پڑھیے

5 نظم (Nazm)

    تشکیل

    میں ٹھنڈی برف کے ذروں سے پھر سے بن رہا ہوں تمہارے قرب کی حدت سے پانی ہو گیا تھا مگر اب پھر مری تشکیل ہونے جا رہی ہے میں پھر سے بن رہا ہوں تمہارے پیار کی حدت یقیناً روح ہے میری مگر یہ میرے ایک اک عضو کو پگھلا کے آب و آب کر دے گی یہ بہتر ہے کہ تم سے فاصلہ ہو نہ کوئی رابطہ ہو یہ حدت پھر ...

    مزید پڑھیے

    خواہش

    یہ کیا پاگل تمنا ہے جو سوچو میں اتر گئی ہے پروں میں اک اجنبی ہوا بھر گئی ہے شام کے دھندلکے سے کہنا پڑے گا گھر لوٹنے کی خواہش مر گئی ہے

    مزید پڑھیے

    شمسہ

    وہ نرگس بھی ہیرا بھی شمع بھی ایوان بھی تھا کتابوں میں خود تذکرہ سر ورق نفس مضمون دیبا بھی شمسہ بھی عنوان بھی تھا ابھی کچھ برس قبل اندر کے صفحوں پہ ٹھہرا ذرا دیر گزری تو صفحے پہ نیچے کی سطروں میں اترا وہ اب حاشیے پر پڑا ہے خدا جانے کب کون اس کو پڑھے گا پڑھے گا کبھی کہیں دل میں اک خوف ...

    مزید پڑھیے

    حشر

    میں حیراں ہوں کہ کس منزل میں ہوں مری چاروں طرف اک بھیڑ سی ہے میں تنہا بھی نہیں ہوں مگر تنہائی سی محسوس ہوتی ہے تو کیا یہ حشر ہے سنا تھا حشر ہوگا ساری روحیں اک خدا ہوگا یہی موقع حساب و عدل کا ہوگا شفا کام آئے گی نہ رشتہ معتبر ہوگا سمجھ میں یہ نہیں آتا خدا میں ہوں یا یہ سب ہیں یہ سب کے ...

    مزید پڑھیے

    بینا

    میں اکثر سوچتا ہوں مرے چشمے کا نمبر بڑھ رہا ہے مجھے اطراف کی چیزیں بھی کم دکھنے لگی ہیں بہت مانوس چہرے تھے وہ گم ہونے لگے ہیں مگر شاید حقیقت اور کچھ ہے میں اس منظر سے غائب ہو رہا ہوں

    مزید پڑھیے