Khwaja Mohammad Wazir

خواجہ محمد وزیر

19ویں صدی کے شاعر

Prominent 19th Century poet at Lucknow.

خواجہ محمد وزیر کی غزل

    چلے بت خانے کو خدا حافظ

    چلے بت خانے کو خدا حافظ تم بھی زاہد کہو خدا حافظ تیرے کوچے سے پیچ اٹھا کے چلے گیسوۓ مشکبو خدا حافظ دم عیسیٰ سے بھی شفا نہ ہوئی لو بس اے ہمدمو خدا حافظ ہے بہت زود رنج دل میرا یار ہے تند خو خدا حافظ اس صنم کو خدا کہوں نہ کہوں ہے سخن گو مگو خدا حافظ دل کو بت خانہ کر کے کعبے ...

    مزید پڑھیے

    تنگیٔ دہن سے ہے اڑی بات

    تنگیٔ دہن سے ہے اڑی بات چھوٹا سا ہے منہ ترا بڑی بات کیا چرب زباں وہ شعلہ رو ہے لب تک آ کر پھسل پڑی بات مطلب پر اگر زبان دو تم ہو منہ سے ابھی نکل کھڑی بات دل شیشۂ ساعت اپنا بن جائے ساقی نہ کرے جو دو گھڑی بات ہیں پیٹ کی ہلکی وہ صدف ساں موتی کی طرح نکل پڑی بات

    مزید پڑھیے

    چلا ہے او دل راحت طلب کیا شادماں ہو کر

    چلا ہے او دل راحت طلب کیا شادماں ہو کر زمین کوئے جاناں رنج دے گی آسماں ہو کر کیا ویراں چمن کو آئے ہو کیا بوستاں ہو کر ہوئے گل پانی پانی یہ چلی آب رواں ہو کر اسی خاطر تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر جواب نامہ کیا لایا تن بے جاں میں جان آئی گیا ...

    مزید پڑھیے

    عذار یار پہ زلف سیاہ فام نہیں

    عذار یار پہ زلف سیاہ فام نہیں مگر یہ حشر کا دن ہے کہ جس کی شام نہیں فراق یار میں دونو سے ہم کو کام نہیں ہوس سحر کی نہیں آرزوۓ شام نہیں ولائے کعبۂ ابرو سے منہ کو کیا پھیروں نماز ختم نہ ہو جب تلک سلام نہیں یہ سیف آپ کی مثل پری سہی قد ہے مگر یہ عیب ہے چلتی نہیں خرام نہیں کہو نہ سرو ...

    مزید پڑھیے

    پیش عاشق چشم گریان و لب خنداں ہے ایک

    پیش عاشق چشم گریان و لب خنداں ہے ایک جل گیا جو نخل اس کو برق اور باراں ہے ایک دیکھنے دیتا نہیں اس کو حجاب‌ عشق ہائے ہوں میں وہ محروم جس کو وصل اور ہجراں ہے ایک ناتوانی سے ترے بیمار کے رخسار پر سیلیٔ دست ستم اور سایۂ مژگاں ہے ایک پیرہن میں یوں بدن ہے جس طرح سے تن میں روح چشم بد ...

    مزید پڑھیے

    ابر کیا گھر گھر کے آیا کھل گیا

    ابر کیا گھر گھر کے آیا کھل گیا بس ثبات‌ بحر دنیا کھل گیا راز دل کتنا چھپایا کھل گیا حال اس دولت سرا کا کھل گیا حسن‌ عارض عارضی تھا کھل گیا خط کے آتے ہی لفافہ کھل گیا آنکھ سے رومال سرکا بعد مرگ چشم تر کا آج پردا کھل گیا تم جو بولے ہو گیا ثابت دہن باتوں ہی باتوں میں عقدہ کھل ...

    مزید پڑھیے

    جو خاص بندے ہیں وہ بندۂ عوام نہیں

    جو خاص بندے ہیں وہ بندۂ عوام نہیں ہزار بار جو یوسف بکے غلام نہیں بھلا ہو کیا دل زاہد میں سوز الفت حق کبھی جلانے کے قابل چراغ خام نہیں گلا ہے چشم سخن گو سے خامشی کا ہمیں دہن کے ہونے نہ ہونے میں کچھ کلام نہیں تو آفتاب ہے زلف سیہ نہیں تو نہ ہو چراغ‌ روز کو کچھ احتیاج‌ شام ...

    مزید پڑھیے

    خدا‌ نما ہے بت سنگ آستانۂ عشق

    خدا‌ نما ہے بت سنگ آستانۂ عشق چلوں گا پائے نگہ بن کے سوئے خانۂ عشق نہ کم ہوں سکۂ داغ دل یگانۂ عشق بھرا پڑا رہے یا رب سدا خزانۂ عشق جبین قیس بنی سنگ آستانۂ عشق جنوں ہے خیمۂ لیلےٰ سیاہ خانۂ عشق مدام دل میں رہے داغ الفت ساقی نہ بے چراغ ہو یا رب شراب خانۂ عشق یہ محفل طرب حسن ہے ...

    مزید پڑھیے

    دم بھر جو نہ دیکھے تجھے اے رشک پری آنکھ

    دم بھر جو نہ دیکھے تجھے اے رشک پری آنکھ مژگاں کی زبانوں سے کرے نوحہ گری آنکھ جم جائے تصور جو ترے بوٹے سے قد کا پتھرا کے بنے صاف عقیق شجری آنکھ لے لیجئے شیشے ہیں سفید اشک نہیں ہیں نم بادہ کشی سے کہ گئی شیشہ‌ گری آنکھ جاؤ جو چمن کو تو کرے فرش رہ ناز بلبل جگر و فاختہ دل کبک دری ...

    مزید پڑھیے

    عاشق زلف و رخ دلدار آنکھیں ہو گئیں

    عاشق زلف و رخ دلدار آنکھیں ہو گئیں مبتلائے کافر و دیندار آنکھیں ہو گئیں سرخ پلکیں ہو گئیں خوں بار آنکھیں ہو گئیں دیکھ لو اب زخم دامن دار آنکھیں ہو گئیں دیکھ کر محو جمال یار آنکھیں ہو گئیں جام ہائے شربت دیدار آنکھیں ہو گئیں آئیو اے اشک اب بہنے لگا ہے خون گرم بھیجیو پانی کہ آتش ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 4