چلے بت خانے کو خدا حافظ
چلے بت خانے کو خدا حافظ تم بھی زاہد کہو خدا حافظ تیرے کوچے سے پیچ اٹھا کے چلے گیسوۓ مشکبو خدا حافظ دم عیسیٰ سے بھی شفا نہ ہوئی لو بس اے ہمدمو خدا حافظ ہے بہت زود رنج دل میرا یار ہے تند خو خدا حافظ اس صنم کو خدا کہوں نہ کہوں ہے سخن گو مگو خدا حافظ دل کو بت خانہ کر کے کعبے ...