Khwaja Mohammad Wazir

خواجہ محمد وزیر

19ویں صدی کے شاعر

Prominent 19th Century poet at Lucknow.

خواجہ محمد وزیر کی غزل

    ہمیشہ دل میں جو اپنے خیال زلف و کاکل ہے

    ہمیشہ دل میں جو اپنے خیال زلف و کاکل ہے تو سینے میں نفس ہر ایک موج بوئے سنبل ہے فساں ہے سخت جانی میری تیغ ناز قاتل کو کہ یاں جتنا ہے رنج نزع اتنا واں تغافل ہے مجھی کو کچھ تو اپنے کوچے میں آنے نہیں دیتا وگرنہ اے ستم ایجاد ہر گلشن میں بلبل ہے تری میناۓ گردن کی صفت کی ہے جو اے ...

    مزید پڑھیے

    ہے نقش درم جو نقش پا ہے

    ہے نقش درم جو نقش پا ہے آپ آتے تو گھر درم سرا ہے دل جلوہ ترا دکھا رہا ہے شیشہ یہ مرا پری نما ہے سلطان جہاں ہے جو گدا ہے تیمور ہر اک شکستہ پا ہے انساں بھی قدرت خدا ہے کیا سنگ کو بت بنا دیا ہے شیریں ہے دہن کرو شکر خند ہنسنے میں تمہاری اک مزا ہے مضمون پروانے بن کے آئیں شبدیز قلم ...

    مزید پڑھیے

    ہوا ہے عشق تازہ ابتدائی آہ ہوتی ہے

    ہوا ہے عشق تازہ ابتدائی آہ ہوتی ہے مبارک طفل دل کی آج بسم اللہ ہوتی ہے ملا جب درہم داغ جنوں گھبرا کے دل بولا یہی کیا عشق کی سرکار میں تنخواہ ہوتی ہے بیاں کرتا نہیں دل وصف اس روۓ مخطط کا خدا کے گھر میں تفسیر کلام اللہ ہوتی ہے فروغ اپنا سوا ہوتا ہے ظلم چرخ گرداں سے جو دل جلتا ہے ...

    مزید پڑھیے

    گوہر اشک سے لبریز ہے سارا دامن

    گوہر اشک سے لبریز ہے سارا دامن آج کل دامن دولت ہے ہمارا دامن اے جنوں باد بہاری سے نہیں جنبش میں کچھ گریبان سے کرتا ہے اشارا دامن وصل کی رات ہے بگڑو نہ برابر تو رہے پھٹ گیا میرا گریبان تمہارا دامن جامہ چین نے نہیں یہ پھول چنے نرگس کے سیکڑوں آنکھوں سے کرتا ہے نظارا دامن بہت اے ...

    مزید پڑھیے

    جیتے جی بس وہ بت رہا ہم راہ

    جیتے جی بس وہ بت رہا ہم راہ اب تو بندے کے ہے خدا ہم راہ دل دیا اس کو پر یہ ڈرتا ہوں دشمن اک دوست کے کیا ہم راہ نہیں یاران رفتگاں کا نشاں لے گئے کیا یہ نقش پا ہم راہ اس میں کیا آپ کی ہے رسوائی رہے گر مجھ سا پارسا ہم راہ تجھے دیکھا جدھر نگاہ گئی تھا تصور زبس ترا ہم راہ رنج تنہائی ...

    مزید پڑھیے

    اس قدر ہم ناتوان و زار ہیں

    اس قدر ہم ناتوان و زار ہیں بازو اپنے مچھلیوں کے خار ہیں چاک چاک اپنا گریباں ہو چکا ان دنوں دست جنوں بے کار ہیں روتے ہیں اشکوں کے بدلے خون گر ابر ہیں ہم لیکن آتش بار ہیں جاتے ہیں گلشن سے لے او باغباں ہم اگر تیری نظر میں خار ہیں آستیں سے پوچھیے کاہے کو اشک اب تو منہ پر زخم دامن ...

    مزید پڑھیے

    میرے نالوں سے تہہ و بالا ہوئی اکثر زمیں

    میرے نالوں سے تہہ و بالا ہوئی اکثر زمیں زیر پا آیا فلک اور بارہا سر پر زمیں ہے دیار ماہرو کا بس یہی قاصد نشاں آسماں تجھ کو نظر آئے گی واں کی سر زمیں کس طرف جاؤں کہ ہو ان دو بلاؤں سے نجات آسماں گھر گھر یہی ہے اور یہی گھر گھر زمیں باری باری یہ مجھے پیسیں برنگ آسیا آسماں دن بھر رہے ...

    مزید پڑھیے

    ہماری اس وفا پر بھی دغا کی

    ہماری اس وفا پر بھی دغا کی قسم کھائی تھی او کافر خدا کی وہ مشت استخواں ہوں اے سگ یار اگر کھائے سعادت ہے ہما کی لب شیریں کا جو بوسہ لیا تھا مری اس کی شکر رنجی رہا کی وفا سے میں نے بھی اب ہاتھ اٹھایا قسم ہے مجھ کو اپنے بے وفا کی ہوئی گر صلح بھی تو بھی رہے جنگ ملا جب دل تو آنکھ اس سے ...

    مزید پڑھیے

    چھانتا ہے خاک کیا تو گھر بنانے کے لیے

    چھانتا ہے خاک کیا تو گھر بنانے کے لیے فکر رہنے کی نہ کر آیا ہے جانے کے لیے اور کو کیا رنج دوں راحت اٹھانے کے لیے ایک تنکے کو نہ چھیڑوں آشیانے کے لیے برق تھی بیتاب میرے آشیانے کے لیے ابر سے بھی پیشتر آئے جلانے کے لیے کام آئی مرغ گلشن کے مری کاہیدگی لے گیا تنکا سمجھ کر آشیانے کے ...

    مزید پڑھیے

    ایک عالم نے جبہ سائی کی

    ایک عالم نے جبہ سائی کی اے بتو تم نے بھی خدائی کی عاشقوں کے لہو کی پیاسی ہیں مچھلیاں اس کف حنائی کی زلف پر پیچ سے جو دل الجھا بیچ میں رخ پڑا صفائی کی مرغ بے بال و پر ہوں اے صیاد آرزو ہے کسی رہائی کی اے جنوں دشت کو چلیں گے ہم ہے قسم اس برہنہ پائی کی سر جدا ہم نے اپنا کر ڈالا آئی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 4