Khwaja Mohammad Wazir

خواجہ محمد وزیر

19ویں صدی کے شاعر

Prominent 19th Century poet at Lucknow.

خواجہ محمد وزیر کی غزل

    میں سراپا مظہر‌ اسم خدا واللہ ہوں

    میں سراپا مظہر‌ اسم خدا واللہ ہوں ہم صفیرو اس چمن میں مرغ بسم اللہ ہوں کس طرف جاؤں دکھا دو یا محمد راہ حق یاں ہر اک گمراہ کہتا ہے میں خضر راہ ہوں اے مسیحا تیری زلفوں کی درازی دیکھ کر کہتی ہی عمر خضر میں گیسوۓ کوتاہ ہوں آسماں پر بھی سیہ بختی میں ہے میرا دماغ خال روۓ مہر ہوں ...

    مزید پڑھیے

    تیغ عریاں پہ تمہاری جو پڑی میری آنکھ

    تیغ عریاں پہ تمہاری جو پڑی میری آنکھ چشم جوہر سے اجی خوب لڑی میری آنکھ نہ ہٹی پیٹ پر اس کے جو پڑی میری آنکھ بن گئی ناف شکم ایسے اڑی میری آنکھ اشک گل رنگ پروتی ہے مژہ میں کیا خوب کیا بناتی ہے یہ پھولوں کی چھڑی میری آنکھ تم رہے بام پہ یاں لگ گئیں آنکھیں چھت سے رات گنتی رہی ہر ایک ...

    مزید پڑھیے

    ہر عضو مسافر ہے نہیں کچھ سفری آنکھ

    ہر عضو مسافر ہے نہیں کچھ سفری آنکھ ہے آخر شب عمر چراغ سحری آنکھ کیا کرتی ہے دل کش سخن اے رشک پری آنکھ لو سیکھ گئی طرز کلام بشری آنکھ ان آنکھوں میں صانع نے بھرے کوٹ کے موتی قسمت یہ ہماری ہے کہ اشکوں سے بھری آنکھ باتیں جو کرو ناز سے تم منہ کو چھپا کر سننے کے لئے کان ہو اے رشک پری ...

    مزید پڑھیے

    تری طرف سے دل اے جان جاں اٹھا نہ سکے

    تری طرف سے دل اے جان جاں اٹھا نہ سکے بہت ضعیف تھے بار گراں اٹھا نہ سکے ہزار بار بہار آئی لیکن اے صیاد نگاہ ہم طرف بوستاں اٹھا نہ سکے اسیر زلف جو مرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ذرا بھی صدمۂ قید گراں اٹھا نہ سکے سنیں جو یار کی باتیں غش آ گیا ہم کو یہ ناتواں تھے کہ لطف بیاں اٹھا نہ سکے

    مزید پڑھیے

    سر مرا کاٹ کے پچھتائیے گا

    سر مرا کاٹ کے پچھتائیے گا کس کی پھر جھوٹی قسم کھائیے گا تھام لوں دل کو ذرا ہاتھوں سے ابھی پہلو سے نہ اٹھ جائیے گا کہئے یاران عدم کیا گزری کچھ لب گور سے فرمائیے گا یوسف حسن اگر غم ہوگا آپ یعقوب نظر آئیے گا کر کے اثبات دہن کیجئے وصف دیکھیے منہ کی ابھی کھائیے گا کم بھی دینے میں ...

    مزید پڑھیے

    نہیں کٹتا ہے یہ میدان بلا

    نہیں کٹتا ہے یہ میدان بلا وادیٔ خضر بیابان بلا مستعد زلف مری رنج پہ ہے ہے مہیا سر‌ و سامان بلا مر گیا گیسو پرپیچ میں دل چھٹ گیا قیدی‌ٔ زندان بلا ہار پھولوں کی ہیں چوٹی میں عیاں کیا ہی پھولا ہے گلستان‌ بلا بولے بکھرا کے وہ زلفیں اپنی ہم ہوئے سلسلہ جنبان بلا اونچی چوٹی ہے ...

    مزید پڑھیے

    وصل میں رفتار معشوقانہ دکھلاتی ہے نیند

    وصل میں رفتار معشوقانہ دکھلاتی ہے نیند آج کن اٹکھیلیوں سے آنکھوں میں آتی ہے نیند یاد چشم سرمگیں میں شب کو گر آتی ہے نیند صورت‌ مرغ نگہ آنکھوں سے اڑ جاتی ہے نیند فرقت‌ دل دار میں سہواً اگر آتی ہے نیند آنکھ سے باہر ہی باہر آ کے پھر جاتی ہے نیند عین بے ہوشی ہے ہشیاری نہ سمجھا ...

    مزید پڑھیے

    ترے رخ کا کسے سودا نہیں ہے

    ترے رخ کا کسے سودا نہیں ہے گل لالہ تلک صحرا نشیں ہے پھرا ہے آپ وہ مہ رو ہمارا ترا اے آسماں شکوہ نہیں ہے کہیں ایسا نہ ہو اٹھے نہ تلوار یہی ڈر ہے کہ قاتل نازنیں ہے نہ پوچھو میرے آنسو تم نہ پوچھو کہے گا کوئی تم کو خوشہ چیں ہے ادب سے پا برہنہ پھرتے ہیں ہم جنوں فرش الٰہی یہ زمیں ...

    مزید پڑھیے

    ہے غلط گر ترے دانتوں کو کہوں تارے ہیں

    ہے غلط گر ترے دانتوں کو کہوں تارے ہیں کہ دہن مصحف‌ ناطق ہے یہ سیپارے ہیں اپنی ہستی میں تو آثار‌ فنا سارے ہیں شام کو ذرے ہیں اور صبح کو ہم تارے ہیں کیا ہی ہرجائی حسینان جہاں سارے ہیں یہ وہ اختر ہیں کہ ثابت نہیں سیارے ہیں ذائقہ ہونٹوں کا بدلے گا نہ مسی ملیے ہوں گی یہ قند سیہ اب ...

    مزید پڑھیے

    بات کا اپنی نہ جب پایا جواب

    بات کا اپنی نہ جب پایا جواب ہم یہ سمجھے وہ دہن ہے لا جواب باتیں سنوائیں لب خاموش نے ورنہ ہم دیتے اسے کیا کیا جواب بے نشاں ہے وہ کمر شکل دہن کون سی شے ہے نہیں جس کا جواب سادہ کاغذ بھیجا نامہ کے عوض واں سے آیا بھی تو صاف آیا جواب پوچھتا گر اس کمر کا میں نشاں غیب سے ملتا مجھے اس کا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4