ہمیشہ دل میں جو اپنے خیال زلف و کاکل ہے
ہمیشہ دل میں جو اپنے خیال زلف و کاکل ہے تو سینے میں نفس ہر ایک موج بوئے سنبل ہے فساں ہے سخت جانی میری تیغ ناز قاتل کو کہ یاں جتنا ہے رنج نزع اتنا واں تغافل ہے مجھی کو کچھ تو اپنے کوچے میں آنے نہیں دیتا وگرنہ اے ستم ایجاد ہر گلشن میں بلبل ہے تری میناۓ گردن کی صفت کی ہے جو اے ...