لگتا ہے پیچ و تاب کے آگے کچھ اور ہے
لگتا ہے پیچ و تاب کے آگے کچھ اور ہے
اس شور انقلاب کے آگے کچھ اور ہے
بے شک مرے سوال کے پیچھے ہے اور بات
کیا تیرے اس جواب کے آگے کچھ اور ہے
ہر چند میری آنکھوں نے دیکھا نہیں ہنوز
لیکن طلسم خواب کے آگے کچھ اور ہے
جو تجھ سے خوش جمال ہے اور دل فریب بھی
دنیا ترے شباب کے آگے کچھ اور ہے
اڑتا ہوا عقاب تو آنکھوں میں قید ہے
اب دیکھیے عقاب کے آگے کچھ اور ہے
ہاں جس سے اس زمیں کا توازن ہے برقرار
دن رات کے عذاب کے آگے کچھ اور ہے
پردہ پڑا ہوا ہے مری آنکھ پر طلب
یا برق و آفتاب کے آگے کچھ اور ہے