خورشید طلب کے تمام مواد

25 غزل (Ghazal)

    شجر پر جتنی سوکھی پتیاں ہیں

    شجر پر جتنی سوکھی پتیاں ہیں تمہارے نام میری چٹھیاں ہیں قریب آنے سے پہلے سوچ لینا مرے اندر بہت سی خامیاں ہیں ابھی ہر موج چپ سادھے ہوئے ہے ابھی ساحل پہ ساری کشتیاں ہیں سیاست کے مچھیرے جانتے ہیں کہ کس دریا میں کتنی مچھلیاں ہیں وہی عادت ہے سب کی زاغ جیسی وہی بلبل سی میٹھی بولیاں ...

    مزید پڑھیے

    وہ جس نے ڈھال دیا برف کو شرارے میں

    وہ جس نے ڈھال دیا برف کو شرارے میں میں کب سے سوچ رہا ہوں اسی کے بارے میں نہ جانے نیند سے کب گھر کے لوگ جاگیں گے کہ اب تو دھوپ چلی آئی ہے اوسارے میں میں جاگ جاگ کے شب بھر اسے تلاشتا ہوں لکھا ہوا ہے مرا نام اک ستارے میں کھلے گی دھوپ تو وادی کا رنگ نکھرے گا ابھی تو اوس کی اک دھند ہے ...

    مزید پڑھیے

    یہ جنوں کے معرکے اتنے نہیں آسان بھی

    یہ جنوں کے معرکے اتنے نہیں آسان بھی سوچ لینا اس میں جا سکتی ہے تیری جان بھی روشنی بھی چاہئے تازہ ہوا کے ساتھ ساتھ کھڑکیاں رکھتا ہوں اپنے گھر میں روشن دان بھی زندگی میں جو تمہیں خود سے زیادہ تھے عزیز ان سے ملنے کیا کبھی جاتے ہو قبرستان بھی گاؤں کی پگڈنڈیاں پکی سڑک سے جا ...

    مزید پڑھیے

    بس ایک سانس لیا کھل کے لخت لخت ہوا

    بس ایک سانس لیا کھل کے لخت لخت ہوا کہ زندگی نہ ہوئی کانچ کا درخت ہوا بہت ذہین بھی ہونا وبال جاں ہے یہاں ہمارے ساتھ ہر اک امتحان سخت ہوا جہاں پہ مجھ کو حلیمی سے کام لینا تھا اسی مقام پہ لہجہ مرا کرخت ہوا نہ میں کسی کے لیے زاد وصل بن پایا نہ ہجرتوں میں مرا کوئی ساز رخت ہوا طلبؔ ...

    مزید پڑھیے

    نہ شہر میں نہ کسی دشت ہو میں خاک ہوئے

    نہ شہر میں نہ کسی دشت ہو میں خاک ہوئے ہمارے خواب ہمارے لہو میں خاک ہوئے کسی کے ہاتھ لگا کب وہ ماہتاب بدن کئی جیالے وہیں جستجو میں خاک ہوئے دھواں سا اٹھتا ہے دل سے جو سوچتا ہوں کبھی وہ کون تھے جو مری آرزو میں خاک ہوئے تھے کتنے گیت جو آواز کو ترستے رہے ہزار راگ رگ خوش گلو میں خاک ...

    مزید پڑھیے

تمام