ویران راستے کی پیمائش
ویرانے سے کاشانے تک بس ایک قدم کی دوری ہے ایک قدم ہو سکتا ہے ایک ساعت کا ایک حیوانی عمر کا یا ایک نوری سال کا ویران راستے کی پیمائش کے لیے خدا نے فرشتہ مقرر نہیں کیا
ممتاز مابعد جدید شاعر، عشقیہ نثری نظموں کے لئے معروف
One of the most prominent contemporary poets known for his unique love-poetry
ویرانے سے کاشانے تک بس ایک قدم کی دوری ہے ایک قدم ہو سکتا ہے ایک ساعت کا ایک حیوانی عمر کا یا ایک نوری سال کا ویران راستے کی پیمائش کے لیے خدا نے فرشتہ مقرر نہیں کیا
ایک سچی کہانی جب دھکیل دی جاتی ہے کسی فلمی کلائمکس کی طرف اپنا منہ چھپا لیتا ہے سورج پھیکے چاند کی اوٹ میں ایک دوسرے کے گرد گھومتے کبوتر مغموم ہو کر بیٹھ جاتے ہیں پروں میں منہ دے کر اور دھرتی تیاری کرتی ہے بار اٹھانے کی ایک قطرہ آنسو کا
رشتوں کی بکارت بچانے میں محبت کام آ گئی تو کیا ملول نہ ہو محبت اور دنیا کے درمیان یہ رشتہ کانچ اور پتھر کا یوں ہی بنا رہے گا آئین تو یہی ٹھہرا ہے کہ فتح کا پرچم دنیا ہی لہرائے گی اور محبت زمین کی تہہ میں چھپ کر انتظار کرے گی دنیا کے فاصل بن جانے کا تو پشیمان نہ ہو اپنے پیماں کو ...
دل کو اس کے دکھ کی گھڑی میں تنہا چھوڑ دیا جسم نے لیکن ساتھ دیا دکھ کے گہرے ساگر میں دل کو چھاتی سے لپٹائے جسم کی کشتی ہول رہی ہے ڈول رہی ہے عقل کنارے پر بیٹھی میٹھا میٹھا بول رہی ہے دنیا کے ہنگاموں میں الٹی جست لگانے کو بازو اپنے تول رہی ہے
اداسی کی جھلمل جھیل کے پار میں نے دیکھا تمہاری لال چوڑیاں سبز ہنسی ہنس رہی تھیں اوس کی ایک قرمزی بوند تمہاری پیشانی پر دمک رہی تھی خوش خوابی کے ناخنوں سے تم اندیشوں کی گرہیں کھول رہی تھیں چاند کی نمی سے امکان کے بے کنار پنے پر کچھ لکھ رہی تھیں تمہاری انگلیاں اور تمہارے پاؤں کے ...
تمہارے لیے سنبھال کر رکھا تھا زمین کی کشش سے باہر ایک آسمان ایک گھوڑے کی پیٹھ اور ایک سڑک جس پر دھوپ چمکیلی بارش البیلی ہوتی ہے ایک مصرع لکھا تھا تمہارے لیے من کی مٹی میں دبا کر رکھی تھی تمہارے نام کی کونپل تمہارے لیے بچائی تھی لہو کی لالی رت جگے عقیدوں کی شکستگی آگ کی لپٹیں ایک ...
اس سے پہلے کی ہم ایک غم ناک کہانی کے کردار ہو جائیں آؤ اپنے حصے کی دھوپ لے کر ہوا ہو جائیں کسی اور سیارے میں جا بسیں آدم اور حوا ہو جائیں پھر خطا کریں خدائی سے گھبرا کر اور اس جرم محبت کی سزا پائیں اک نئی دنیا کا سبب ہو جائیں