Khursheed Akbar

خورشید اکبر

مابعد جدید اردو شاعر،نجات پسند شاعر،تعبیر نواز تخلیقی نظریے کے لیے معروف

Post Modern Urdu Poet known for Libertanian radical views.

خورشید اکبر کی نظم

    عشق ناتمام

    کون کہتا ہے ہم تم جدا ہو گئے زندگی سے اچانک خفا ہو گئے ہجر عالم پہ چھایا تھا کچھ اس طرح وصل کے خواب وقف دعا ہو گئے وقت میزان میں جانے کیا بات تھی تیر جو بے خطا تھے خطا ہو گئے ہم کہ جس بت کو بے جان سمجھا کیے وہ زمانے میں کیوں دیوتا ہو گئے ایک دن یوں ہوا حسن سرکار میں مدعی جو نہ تھے ...

    مزید پڑھیے

    اجنبی فرمائش

    اجنبی تجھ سے تعلق کا صلہ خوب ہے یہ تیری خواہش ہے کہ ہر روز نئی نظم لکھوں تیرے نام میری کوشش بھی عجب ہے لیکن روز تازہ نئے جذبات کہاں سے لاؤں کورے الفاظ کی سوغات کہاں سے لاؤں خشک آنکھوں کے کٹوروں سے میں برسات کہاں سے لاؤں اجنبی تو ہی بتا نسخۂ نایاب کوئی اجنبی مجھ کو دکھا خطۂ شاداب ...

    مزید پڑھیے

    لاجونتی

    جس کے پہلو میں باغ جنت ہے اس کے پہلو سے اٹھ کے آیا ہوں جس کے پہلو میں آگ جلتی ہے اس کے پہلو میں جل کے دیکھا ہے جس کے پہلو میں برف جمتی ہے اس کو اپنی حرارتیں دے کر میں نے پانی بنا دیا لیکن زندگی تم کو شرم آتی ہے میری محبوب ہو گئی کب سے مجھ سے منسوب ہو گئی کب سے تم نے کاٹی فسادیوں کے ...

    مزید پڑھیے

    مقتل کی عید قرباں

    کتنے آداب سے مقتل کو سجایا گیا ہے پھر تری بزم سے زندوں کو اٹھایا گیا ہے سچ کسی جھوٹ کی تخلیق نہیں کر سکتا جانے کیا ہے جو سلیقے سے چھپایا گیا ہے اس سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی فنا کی تصویر ایسی حکمت سے کھلونے کو بنایا گیا ہے عید قرباں سے مقدس نہیں کوئی تقریب اس طرح بھولا سبق یاد دلایا ...

    مزید پڑھیے

    عشق ماہی بغیر آب

    جاگتے سوتے یہ خیال آیا تجھ کو سوچا تو یہ سوال آیا تم کہاں اور میں کہاں جاناں فاصلے کیوں ہیں درمیاں جاناں یوں ملے ہم کہ مل نہیں پائے پھول حسرت کے کھل نہیں پائے برق پر نامہ بر سوار ہوا دھوپ میں ابر سایہ دار ہوا پھر تعلق کے تار ٹوٹ گئے ہم پہ صدمے ہزار ٹوٹ گئے بے بسی کی عجیب شام ...

    مزید پڑھیے

    دشت بے اماں

    تجھے یاد کرتے کرتے تری راہ تکتے تکتے مرے اجنبی مسافر کئی دن گزر گئے ہیں کوئی شام آ رہی ہے: کوئی خوش نما ستارہ جو فلک پہ ہنس رہا ہے کسی مہ جبیں کی صورت جو نظر کو ڈس رہا ہے وہی ایک استعارہ تری یاد رہ گزر پر مرا ہم سفر بنا ہے وہی اک ضیا سلامت سر شام تیرگی میں مرے کام آ رہی ہے مرے راستے ...

    مزید پڑھیے

    نامۂ عشق ہے خدا کے نام

    میں بھی انجان تھا تم بھی انجان تھے لوگ حیران تھے عشق آسان تھا عشق آسان تھا اس کی افتاد مشکل نہ تھی اس قدر ابر کی چھاؤں میں یوں چلے جا رہے تھے نئے ہم سفر اس کے آگے مگر تھے عجب سلسلے پھر کڑے کوس تھے پھر کٹھن تھی ڈگر دور تک بے کراں ریگ صحرا تھی پھیلی ہوئی ایسی آندھی چلی میں بھی تھا ...

    مزید پڑھیے

    خود فریبی

    تم مجھے امتحان میں ڈالو میں تمہیں امتحان میں ڈالوں پھر نتیجہ ہو جس کا رسوائی اور حاصل ہو شام تنہائی اس تعلق کا فائدہ کیا ہے اس سے بچنے کا راستہ کیا ہے میں نے پہلے بھی تم کو دیکھا ہے اور ہر بار دیکھنا ہے کیا جاؤ تم کو نئی حیات ملے خود فریبی سے اب نجات ملے میں کوئی یاد ہوں نہ کوئی ...

    مزید پڑھیے

    اعتراف

    اس طرح سے خفا ہوئے جاناں جیسے میں نے بڑا گناہ کیا جیسے مندر کو ڈھ دیا میں نے جیسے مسجد کہیں گرائی ہو جیسے اک شہر جاں تباہ کیا ہاں تری بات اک نہیں مانی تیرے بہروپ سے رہا شکوہ ہاں ترا دل فقط نہیں رکھا ہاں یہی اک خطا ہوئی مجھ سے تیری جنت سے ہو گیا محروم ورنہ کیا کیا نہیں کیا میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2