عشق ناتمام
کون کہتا ہے ہم تم جدا ہو گئے زندگی سے اچانک خفا ہو گئے ہجر عالم پہ چھایا تھا کچھ اس طرح وصل کے خواب وقف دعا ہو گئے وقت میزان میں جانے کیا بات تھی تیر جو بے خطا تھے خطا ہو گئے ہم کہ جس بت کو بے جان سمجھا کیے وہ زمانے میں کیوں دیوتا ہو گئے ایک دن یوں ہوا حسن سرکار میں مدعی جو نہ تھے ...