Khursheed Akbar

خورشید اکبر

مابعد جدید اردو شاعر،نجات پسند شاعر،تعبیر نواز تخلیقی نظریے کے لیے معروف

Post Modern Urdu Poet known for Libertanian radical views.

خورشید اکبر کی نظم

    جاناں

    روٹھنا تھا کسے منانا تھا وقت کے ساتھ گنگنانا تھا لہر دریا کے ساتھ رہتی ہے بجلی بادل میں ہے عجب رشتہ سانس کی ڈور بن کے جسم کے ساتھ روح ہر لمحہ ہے روانی میں کھیلتی ہے وہ آگ پانی میں وقت کی بات ہے الگ جاناں حسن سوغات ہے الگ جاناں پھول سے روٹھتی ہے کب خوشبو رات سے روٹھتا ہے کب ...

    مزید پڑھیے

    بھیگا موسم

    اس نے کہا تھا چھوٹی سی فرمائش ہے! میں نے کہا تھا بھولی بھالی خواہش ہے! اس نے کہا تھا روح میں خارش ہوتی ہے میں نے کہا تھا جسموں کی سازش ہوتی ہے اس نے کہا تھا بادل کالے ہوتے ہیں میں نے کہا تھا بجلی گوری ہوتی ہے! اس نے کہا تھا جب دونوں ٹکراتے ہیں!! میں نے کہا تھا پھر تو بارش ہوتی ہے!!!! اس ...

    مزید پڑھیے

    صرف شبنم سے نہیں بجھتی پیاس

    پھول نے عشق کیا تتلی سے اور تتلی تھی کہ منڈراتی رہی جانے کیا سوچ کے گھبراتی رہی سوچتے سوچتے رفتہ رفتہ زانوئے گل پہ مگر بیٹھ گئی جینے مرنے کی بھی کھائی قسمیں پھر اڑی لوٹ کے آئی نہ کبھی ایک دن ایسا ہوا دست گلچیں میں وہی قید ہوئی ایک صیاد کی وہ صید ہوئی اور پھر سینکڑوں منت کے ...

    مزید پڑھیے

    میں وہ پتھر

    اس سے رشتہ رہا عجب میرا آ گیا نام بے سبب میرا اس سے آگے کے مرحلے پہ مگر نارسائی کے سلسلے پہ مگر میں تو کچھ بول بھی نہیں سکتا راز یہ کھول بھی نہیں سکتا سلسلہ دور تک اداسی کا ایک منظر ہے نا سپاسی کا جھوٹ ہو وقت ہو کہ عشق مدام یاد ہو خواب ہو کہ ہجر دوام ان کے تو پاؤں بھی نہیں ہوتے اور وہ ...

    مزید پڑھیے

    من تو شدم تو من شدی

    میں اگر خاک تو ہے آب مری تو ہے تعبیر میں ہوں خواب ترا تو اگر آگ میں ہوا کا شور تو زمیں میری میں ترا آکاش میں ترا جسم تو ہے روح مری عشق میرا ہے ریگ زاروں سا حسن تیرا ہے آبشاروں سا تو ہمالہ کی پر فضا وادی میں سمندر کی طرح آزادی اور کس کس طرح سے کیا بولوں عین فطرت کے راز کیا کھولوں یہ ...

    مزید پڑھیے

    نوحۂ جاں

    میں تھا آوارہ و برجستہ خرام اوراق بندگی اس کی پناہ نامۂ عشق تھا رشتوں کا جواز برق رو میں بھی تھا کچھ وہ بھی رہا عشق احساس جنوں کے آثار کچھ عجب طرح بنے نقش و نگار فرط جذبات سے اس درجہ رہے ہم لرزاں تیسری قوت‌ وسواس کہاں سے آئی اور پھر ٹوٹ گیا لرزہ بر اندام تعلق کا پل سبز ارمانوں ...

    مزید پڑھیے

    خلش

    زعفرانی شبیہ تھی اس کی میں بھی تھا سبزۂ بہار کا رنگ یوں ہوئی تیز قربتوں کی دھوپ روپ بہروپ اعتبار کا رنگ بیچ میں آ گئی خزاں ایسی برگ جذبات ہو گئے پیلے پڑ گئی عشق پر عجب افتاد پھر نیا موسم سیاست تھا کھنچ گئی پھر فصیل تفریقات دور کا ڈھول جشن تقریبات قرض کی طرح حسن کی خیرات رہ گئے ...

    مزید پڑھیے

    فیس بک

    ایک دنیا بڑے کمال کی ہے لمحہ لمحہ نئے سوال کی ہے مہ وشوں کے جمال کی دنیا جذبۂ اتصال کی دنیا جھوٹ اور سچ کا بے سرا سنگم ایک دنیا خیال پر قائم جس کو میں چھوڑنا اگر چاہوں اس سے منہ موڑنا اگر چاہوں حسرتوں پر زوال آئے گا حرف جاں پر سوال آئے گا اب تو چہرے یقیں سے آگے ہیں مستقل اعتبار کس ...

    مزید پڑھیے

    وہی بوئے گل ہے

    کوئی جذبہ ہے نہ کوئی احساس اب تو وہ ہے بھی نہیں میرے پاس جیسے وہ تھا ہی نہیں میرے پاس جیسے وہ تھا ہی نہیں کوئی سوال جیسے وہ تھا ہی نہیں میرا خیال جیسے وہ تھا ہی نہیں رات کی نیند جیسے وہ تھا ہی نہیں میرا خواب جیسے وہ تھا ہی نہیں میرا نشہ جیسے وہ تھا ہی نہیں میری شراب جیسے وہ تھا ...

    مزید پڑھیے

    پہلا منظر

    سرد یخ بستہ موسموں کی نوید جانے کس کس کے نام آئی تھی کہر آلود تھی فضا ایسی صبح کچھ اونگھتی ہوئی جاگی اس کی آغوش سے ہمکتا ہوا ایک سورج قلانچیں بھرتا ہوا آسمان فسوں کے میداں میں شوخ کرنوں کو چھیڑتا نکلا ہو گیا خطۂ افق گل رنگ میں تھا محبوس اپنے کمرے میں دفعتاً دیکھتا ہوں نور کریم ہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2