Khursheed Afsar Baswani

خورشید افسر بسوانی

خورشید افسر بسوانی کے تمام مواد

3 غزل (Ghazal)

    دیے پلکوں کے سارے بجھ رہے ہیں

    دیے پلکوں کے سارے بجھ رہے ہیں سر شب ہی ستارے بجھ رہے ہیں ان آنکھوں نے جنہیں روشن کیا تھا وہ سب منظر ہمارے بجھ رہے ہیں بہت کم ہو چلی ہے آتش خاک زمیں تیرے شرارے بجھ رہے ہیں سیاحت ہاتھ مل کر رہ گئی ہے سر ساحل شکارے بجھ رہے ہیں پئے شب سیر آیا بھی کہاں میں جہاں سارے نظارے بجھ رہے ...

    مزید پڑھیے

    ساتوں رنگ کھلا نہیں پائے ہم بھی تو

    ساتوں رنگ کھلا نہیں پائے ہم بھی تو موسم اس کے لا نہیں پائے ہم بھی تو ڈوبتے کیسے برف جمی تھی دریا میں سانسوں سے پگھلا نہیں پائے ہم بھی تو جس کی تہمت رکھی اپنے بزرگوں پر وہ دیوار گرا نہیں پائے ہم بھی تو لڑکے ہم سے پوچھ رہے تھے کون ہیں آپ برسوں گھر تک جا نہیں پائے ہم بھی تو کس منہ ...

    مزید پڑھیے

    کبھی ستارہ کبھی رمز و استعارہ ہوا

    کبھی ستارہ کبھی رمز و استعارہ ہوا عجیب ڈھنگ سے وہ مجھ پہ آشکارا ہوا سبھی نے آئینہ دیکھا ابھی مسلم تھا تری نگاہ پڑی اور پارہ پارہ ہوا رکھا گیا ہے حفاظت سے سیلف میں مجھ کو کہ جیسے میں بھی خصوصی کوئی شمارہ ہوا ہمیں نے آگ لگائی تھی اپنے دامن میں پھر اس کے بعد نہ آنسو کوئی شرارہ ...

    مزید پڑھیے

1 نظم (Nazm)

    دنیا کی جنت

    یہ اسکول یہ میرے خوابوں کی جنت یہ ودیا کا ساگر کتابوں کی جنت یہاں بدھمانی کے سوتے رواں ہیں یہاں کی زمیں پر نئے آسماں ہیں وہ سب پھول کھلتے ہیں جو اس چمن میں مہکتے ہیں کھلتے ہی سارے وطن میں اندھیرا نہیں ہے یہاں روشنی ہے یہاں ہر طرف زندگی زندگی ہے یہاں کوئی ہنگامہ ہے اور نہ ڈر ہے یہی ...

    مزید پڑھیے