Khursheed Afsar Baswani

خورشید افسر بسوانی

خورشید افسر بسوانی کی غزل

    دیے پلکوں کے سارے بجھ رہے ہیں

    دیے پلکوں کے سارے بجھ رہے ہیں سر شب ہی ستارے بجھ رہے ہیں ان آنکھوں نے جنہیں روشن کیا تھا وہ سب منظر ہمارے بجھ رہے ہیں بہت کم ہو چلی ہے آتش خاک زمیں تیرے شرارے بجھ رہے ہیں سیاحت ہاتھ مل کر رہ گئی ہے سر ساحل شکارے بجھ رہے ہیں پئے شب سیر آیا بھی کہاں میں جہاں سارے نظارے بجھ رہے ...

    مزید پڑھیے

    ساتوں رنگ کھلا نہیں پائے ہم بھی تو

    ساتوں رنگ کھلا نہیں پائے ہم بھی تو موسم اس کے لا نہیں پائے ہم بھی تو ڈوبتے کیسے برف جمی تھی دریا میں سانسوں سے پگھلا نہیں پائے ہم بھی تو جس کی تہمت رکھی اپنے بزرگوں پر وہ دیوار گرا نہیں پائے ہم بھی تو لڑکے ہم سے پوچھ رہے تھے کون ہیں آپ برسوں گھر تک جا نہیں پائے ہم بھی تو کس منہ ...

    مزید پڑھیے

    کبھی ستارہ کبھی رمز و استعارہ ہوا

    کبھی ستارہ کبھی رمز و استعارہ ہوا عجیب ڈھنگ سے وہ مجھ پہ آشکارا ہوا سبھی نے آئینہ دیکھا ابھی مسلم تھا تری نگاہ پڑی اور پارہ پارہ ہوا رکھا گیا ہے حفاظت سے سیلف میں مجھ کو کہ جیسے میں بھی خصوصی کوئی شمارہ ہوا ہمیں نے آگ لگائی تھی اپنے دامن میں پھر اس کے بعد نہ آنسو کوئی شرارہ ...

    مزید پڑھیے