Khawaja Javed Akhtar

خواجہ جاوید اختر

مقبول ترین شاعروں میں سے ایک، کم عمری میں وفات

One of the most popular poets who died young.

خواجہ جاوید اختر کی غزل

    سب اس کی محفل میں ہیں

    سب اس کی محفل میں ہیں اور ہم اس کے دل میں ہیں کل تک تو خوش حال تھے ہم آج بڑی مشکل میں ہیں روشن امکانات مرے سارے مستقبل میں ہیں بے پردہ ہیں لیلائیں اور مجنوں محمل میں ہیں مدت سے اک عزم لئے ہم راہ و منزل میں ہیں جب سے بلی جاگ اٹھی سارے چوہے بل میں ہیں اک دن بار آور ہوں گے تخم جو ...

    مزید پڑھیے

    گزرنا رہ گزاروں سے بڑا آسان تھا پہلے

    گزرنا رہ گزاروں سے بڑا آسان تھا پہلے علاقہ ہم جہاں رہتے ہیں وہ سنسان تھا پہلے سبب کیا ہے اسے کھونے کا کچھ بھی غم نہیں ہوتا جسے پانے کا اس دل کو بڑا ارمان تھا پہلے یہ عالم ہے کہ اب کچھ بھی نہیں اک ہو کا عالم ہے ہمارے خانۂ دل میں کوئی مہمان تھا پہلے بشر کا شر نمایاں ہو گیا دور ترقی ...

    مزید پڑھیے

    سائے مجبور ہیں پیڑوں سے اترنے کے لیے

    سائے مجبور ہیں پیڑوں سے اترنے کے لیے کیوں خزاں کہتی ہے پتوں سے بکھرنے کے لیے بھر کے مٹھی میں تو لے جائے گی بادل کو ہوا کوئی شب آئے گی تاروں سے سنورنے کے لیے اس کو دو پل بھی مرا ساتھ گوارا نہ ہوا ساتھ میں جس کے میں تیار تھا مرنے کے لیے کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہوا روٹھ گئی منتظر ...

    مزید پڑھیے

    جانتا ہوں حریف جاں ہیں سب

    جانتا ہوں حریف جاں ہیں سب ہاں مگر آج وہ کہاں ہیں سب ایک میں ہی زمیں کی صورت ہوں اور باقی تو آسماں ہیں سب کون میری زباں سمجھتا ہے یوں تو کہنے کو ہم زباں ہیں سب میں سبھی کو سمجھتا حق گو ہوں اور مجھ سے ہی بد گماں ہیں سب کون سی مصلحت ہے جو مجھ پر اس قدر آج مہرباں ہیں سب سن کے سارے ہی ...

    مزید پڑھیے

    نکل تو آئے اس اجڑے ہوئے مکان سے ہم

    نکل تو آئے اس اجڑے ہوئے مکان سے ہم تمام شب رہے محروم سائبان سے ہم ہم اپنے وقت کے بالا بلند سورج تھے غروب ہو گئے کس طرح درمیان سے ہم ذرا بھی جس میں نصیحت ہو کچھ ہدایت ہو نکال دیتے ہیں وہ بات اپنے کان سے ہم دل و دماغ نہیں لفظ ہی کرشمہ ہے تو کیا عجب کہ ہوئے قتل اس زبان سے ہم وصال ...

    مزید پڑھیے

    نئی زمین نیا آسماں بناتے ہیں

    نئی زمین نیا آسماں بناتے ہیں ہم اپنے واسطے اپنا جہاں بناتے ہیں بجھی بجھی سی وہ تصویر جاں بناتے ہیں کہیں چراغ کہیں پر دھواں بناتے ہیں بیان کرتے ہیں ہم داستان لفظوں میں ذرا سی بات کی وہ داستاں بناتے ہیں چمکتی دھوپ میں کرنیں سمیٹتے ہیں ہم انہیں کو تان کے پھر سائباں بناتے ...

    مزید پڑھیے

    میں کیسے لوٹ کے جاؤں گا اپنے گھر یارو

    میں کیسے لوٹ کے جاؤں گا اپنے گھر یارو کے میرے قدموں سے لپٹی ہے رہ گزر یارو نہ راس آئے گا مجھ کو کوئی شجر یارو ابھی طویل بہت ہے مرا سفر یارو ابھی تو شانوں پہ قائم ہے میرا سر یارو جنوں نہیں ہے ابھی میرا معتبر یارو ستم تو دیکھیے پرواز کی دعا دے کر کتر رہا ہے کوئی میرے بال و پر ...

    مزید پڑھیے

    چاہت میں آسماں کی زمیں کا نہیں رہا

    چاہت میں آسماں کی زمیں کا نہیں رہا کیا بد نصیب تھا وہ کہیں کا نہیں رہا دنیا کے انہماک میں دیں کا نہیں رہا گھر اس کا جس جگہ تھا وہیں کا نہیں رہا یہ اور بات ہے کہ ہمیں اعتبار ہو ورنہ زمانہ آج یقیں کا نہیں رہا ہاں کہہ کے اپنی جان بچانے لگے ہیں لوگ یعنی کہ اب زمانہ نہیں کا نہیں ...

    مزید پڑھیے

    میرا خود سے ملنے کو جی چاہتا ہے

    میرا خود سے ملنے کو جی چاہتا ہے بہت اپنے بارے میں میں نے سنا ہے سکوں سے کوئی گھر میں بیٹھا ہوا ہے کوئی خواب میں دوڑتا بھاگتا ہے ادب میں بہت کچھ پرانا ہے لیکن ہمیں دیکھنا ہے کہ کیا کچھ نیا ہے جہاں آندھیوں نے جمائے تھے ڈیرے ابھی تک وہاں ایک روشن دیا ہے کوئی سو رہا ہے اجالے میں دن ...

    مزید پڑھیے

    پوچھا ہی نہیں اس نے کبھی حال ہمارا

    پوچھا ہی نہیں اس نے کبھی حال ہمارا بس یوں ہی گزر جاتا ہے ہر سال ہمارا رہتی ہے خبر سارے زمانے کی ہمیں بھی پھیلا ہے بہت دور تلک جال ہمارا مشکل ہے کسی کام کا ہونا بھی یہاں پر ہو جاتا ہے ہر کام بہ ہر حال ہمارا ہم نے تو نمائش بھی لگائی نہیں پھر بھی بازار میں چل جاتا ہے ہر مال ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2