Khawaja Javed Akhtar

خواجہ جاوید اختر

مقبول ترین شاعروں میں سے ایک، کم عمری میں وفات

One of the most popular poets who died young.

خواجہ جاوید اختر کی غزل

    نظر سے دور ہوتے جا رہے ہیں

    نظر سے دور ہوتے جا رہے ہیں سراپا نور ہوتے جا رہے ہیں جنہیں بدنام کرنا چاہتے ہو وہی مشہور ہوتے جا رہے ہیں ہم آغاز سفر سے پہلے ہی کیوں تھکن سے چور ہوتے جا رہے ہیں بڑھی ہے روشنی تہذیب نو کی مکاں بے نور ہوتے جا رہے ہیں ہر اک اپنا جنازہ ڈھو رہا ہے سبھی مزدور ہوتے جا رہے ہیں کھلے ...

    مزید پڑھیے

    آنکھوں میں بیج خواب کا بونے نہیں دیا

    آنکھوں میں بیج خواب کا بونے نہیں دیا اک پل بھی اس نے چین سے سونے نہیں دیا اشکوں سے دل کا زخم بھی دھونے نہیں دیا مجھ کو خود اپنے حال پہ رونے نہیں دیا یہ اور بات ہے وہ مرا ہو نہیں سکا لیکن مجھے کسی کا بھی ہونے نہیں دیا گم ہونا چاہتا تھا میں خود اپنے آپ میں مجھ کو ترے گمان نے کھونے ...

    مزید پڑھیے

    کڑی ہے دھوپ کرے کس طرح سفر کوئی

    کڑی ہے دھوپ کرے کس طرح سفر کوئی نہیں ہے راہ میں اب دور تک شجر کوئی میں اپنے شہر میں پھرتا ہوں اجنبی کی طرح عجب نگاہ سے تکتا ہے مجھ کو ہر کوئی تمام عمر میں خود اپنے آپ میں گم تھا تلاش کرتا رہا مجھ کو عمر بھر کوئی میں ایک راہ گزر کی تلاش میں ہوں مگر تلاش کرتی ہے مجھ کو بھی رہ گزر ...

    مزید پڑھیے

    میں نے روکا بہت پر گئے سب کے سب

    میں نے روکا بہت پر گئے سب کے سب جانے پھر کیا ہوا ڈر گئے سب کے سب دوست کیا اب تو دشمن بھی مفقود ہیں بات کیا ہے کہاں مر گئے سب کے سب ہر قدم پر زمانہ مخالف رہا کام اپنا مگر کر گئے سب کے سب دن میں سورج کے تھے ہم سفر دن ڈھلے لے کے مایوسیاں گھر گئے سب کے سب پیڑ سوکھے تھے قدرت بھی تھی ...

    مزید پڑھیے

    زمیں سے اٹھے ہیں یا آسماں سے آئے ہیں

    زمیں سے اٹھے ہیں یا آسماں سے آئے ہیں یہ لوگ شہر میں جانے کہاں سے آئے ہیں انہیں کو حق ہے بہاروں کے خیر مقدم کا گزر کے جو کسی دور خزاں سے آئے ہیں ہدف کوئی ہو کہیں ہو یقین ہے مجھ کو یہ سارے تیر اسی کی کماں سے آئے ہیں وہاں سے لوٹ کے آنے کا دل نہ کرتا تھا پلٹ کے شہر میں اپنے جہاں سے آئے ...

    مزید پڑھیے

    سمجھ سکا نہ کوئی آج تک کہ کیا ہوں میں

    سمجھ سکا نہ کوئی آج تک کہ کیا ہوں میں ہوا کے دوش پہ جلتا ہوا دیا ہوں میں وجود ہوگا مجسم مرا کبھی نہ کبھی ابھی تو تیری فضا میں بکھر رہا ہوں میں یہ کیسے کہہ دوں کہ پہچانتا بھی ہوں اس کو وہ جس کو ایک زمانے سے جانتا ہوں میں دعا قبول ہوئی اضطراب باقی ہے یہی بہت ہے کہ کچھ کامیاب سا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    دل کی دنیا ہے مصیبت سے بھری رہتی ہے

    دل کی دنیا ہے مصیبت سے بھری رہتی ہے پھر بھی ہر شاخ تمنا کی ہری رہتی ہے جانے کب آ کے وہ دروازے پہ دستک دے دے زندگی موت کی آہٹ سے ڈری رہتی ہے خواب میں بھی نہیں دیکھا کبھی چہرہ اس کا دل کے آئینے میں سنتے ہیں پری رہتی ہے میں سکندر ہوں نہ صوفی نہ قلندر یارو پھر بھی روشن مری آشفتہ سری ...

    مزید پڑھیے

    روشنی کا گزر مکان میں کیا

    روشنی کا گزر مکان میں کیا کوئی سورج ہے سائبان میں کیا جھوٹ پر جھوٹ بولے جاتے ہو کچھ کمی رہ گئی ہے شان میں کیا ذکر میرا ضرور آئے گا ورنہ رکھا ہے داستان میں کیا جو مخالف تھے ساتھ ہیں میرے کچھ کشش ہے مری زبان میں کیا تھک گئے ہیں پکارنے والے کوئی رہتا نہیں مکان میں کیا بولنا ہے ...

    مزید پڑھیے

    گماں تو ٹھیک میں کیسے کہوں یقین بھی ہے

    گماں تو ٹھیک میں کیسے کہوں یقین بھی ہے کہ میرے پاؤں کے نیچے کہیں زمین بھی ہے دلوں میں دنیا بسائے ہوئے تو پھرتے ہو خیال رکھنا کہ دنیا کے ساتھ دین بھی ہے ہمارے جیب و گریباں میں سانپ کیا ملتا اسے خبر ہی نہیں تھی کہ آستین بھی ہے ترس جو کھا کے کسی جانور پہ شاہ بنے ہجوم شاہ میں کوئی ...

    مزید پڑھیے

    موجوں کا شور و شر ہے برابر لگا ہوا

    موجوں کا شور و شر ہے برابر لگا ہوا دریا سے اس قدر ہے مرا گھر لگا ہوا ایسا نہ ہو کہ ٹوٹ پڑے سر پہ آسماں ہے کچھ دنوں سے مجھ کو بڑا ڈر لگا ہوا اب اس کے شر سے خود کو بچانا بھی ہے مجھے رہتا ہے میرے ساتھ جو اکثر لگا ہوا حد چھو رہی تھی رات جہاں تشنگی مری تھا اس کے بعد ایک سمندر لگا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2