جانتا ہوں حریف جاں ہیں سب

جانتا ہوں حریف جاں ہیں سب
ہاں مگر آج وہ کہاں ہیں سب


ایک میں ہی زمیں کی صورت ہوں
اور باقی تو آسماں ہیں سب


کون میری زباں سمجھتا ہے
یوں تو کہنے کو ہم زباں ہیں سب


میں سبھی کو سمجھتا حق گو ہوں
اور مجھ سے ہی بد گماں ہیں سب


کون سی مصلحت ہے جو مجھ پر
اس قدر آج مہرباں ہیں سب


سن کے سارے ہی سانحات مرے
لوگ بولے کہ داستاں ہیں سب