Khan Mohammad Khaleel

خان محمد خلیل

خان محمد خلیل کی نظم

    وہ اور میں

    جب زمیں کے پیاسے ہونٹ بوند بوند کو ترسے اس کی کوکھ نے جب بھی سبز بچے جننے کی آرزو میں لب کھولے تب شفیق بادل نے اپنی جاں کے امرت سے اس زمیں کے سینے میں قطرہ قطرہ رس گھولا بے بدن دراڑوں سے زندگی اگا ڈالی ہاں یہ سب ہوا لیکن کوئی آ کے بادل سے صرف اس قدر پوچھے تیری پیاس کا دوزخ سرد ہے کہ ...

    مزید پڑھیے

    مقام جاں

    نمک کے صحرا میں اپنی پلکوں سے ٹکڑے ٹکڑے یہ خواب چن لوں تو تجھ کو دیکھوں شکستہ‌ ہاتھوں سے حسرتوں کے عذاب چن لوں تو تجھ کو دیکھوں جو تجھ کو دیکھوں تو جان پاؤں کہ اس صف دوستاں میں تیرا مقام کیا ہے نقیب جاں تو کہاں کھڑا ہے وہ صف کہ جس نے محبتوں کے گلاب پہنے عظیم چاہت کے سرخ لمحوں کی ...

    مزید پڑھیے