Khan Mohammad Khaleel

خان محمد خلیل

خان محمد خلیل کی غزل

    پھریں گی یہ کھلے سر دیکھ لینا

    پھریں گی یہ کھلے سر دیکھ لینا مرادوں کا مقدر دیکھ لینا اسے لکھوں تو کم پڑنے لگے گا یہ سوچوں کا سمندر دیکھ لینا جو رستے میں لٹے ان کی طرف بھی سر منزل پہنچ کر دیکھ لینا بدن شیشے کا بنوانے سے پہلے مرے ہاتھوں کے پتھر دیکھ لینا تم اپنی آستیں گر دھو بھی لو گے پکار اٹھے گا خنجر دیکھ ...

    مزید پڑھیے

    طوفاں کے ڈر سے رنگ اڑا بھی اسی کا تھا

    طوفاں کے ڈر سے رنگ اڑا بھی اسی کا تھا لیکن سفینہ پار لگا بھی اسی کا تھا جو ہونٹ سل گئے وہ ثنا خواں اسی کے تھے جو مر گیا وہ حرف دعا بھی اسی کا تھا اتری تھی اس کے گھر میں مہ و مہر کی برات اور میرا ٹمٹماتا دیا بھی اسی کا تھا مینار جاں میں اس کی صدا گونجتی رہی لوح جبیں پہ نام لکھا بھی ...

    مزید پڑھیے

    سلگتی رت تھی پہ کب تو بھی پاس ایسا تھا

    سلگتی رت تھی پہ کب تو بھی پاس ایسا تھا کہ تیرے قرب کا منظر بھی پیاس ایسا تھا بچھڑ کے تجھ سے تو خود سے بھی شرم آتی ہے ترا وجود بدن پر لباس ایسا تھا خود اپنے دل کی صدا تیری دستکوں سی لگی گماں میں تھا تیرا آنا قیاس ایسا تھا شکست و ریخت کی سختی کو کیسے جھیل گیا ملائمت میں جو پیکر ...

    مزید پڑھیے