Khan Mohammad Khaleel

خان محمد خلیل

خان محمد خلیل کے تمام مواد

3 غزل (Ghazal)

    پھریں گی یہ کھلے سر دیکھ لینا

    پھریں گی یہ کھلے سر دیکھ لینا مرادوں کا مقدر دیکھ لینا اسے لکھوں تو کم پڑنے لگے گا یہ سوچوں کا سمندر دیکھ لینا جو رستے میں لٹے ان کی طرف بھی سر منزل پہنچ کر دیکھ لینا بدن شیشے کا بنوانے سے پہلے مرے ہاتھوں کے پتھر دیکھ لینا تم اپنی آستیں گر دھو بھی لو گے پکار اٹھے گا خنجر دیکھ ...

    مزید پڑھیے

    طوفاں کے ڈر سے رنگ اڑا بھی اسی کا تھا

    طوفاں کے ڈر سے رنگ اڑا بھی اسی کا تھا لیکن سفینہ پار لگا بھی اسی کا تھا جو ہونٹ سل گئے وہ ثنا خواں اسی کے تھے جو مر گیا وہ حرف دعا بھی اسی کا تھا اتری تھی اس کے گھر میں مہ و مہر کی برات اور میرا ٹمٹماتا دیا بھی اسی کا تھا مینار جاں میں اس کی صدا گونجتی رہی لوح جبیں پہ نام لکھا بھی ...

    مزید پڑھیے

    سلگتی رت تھی پہ کب تو بھی پاس ایسا تھا

    سلگتی رت تھی پہ کب تو بھی پاس ایسا تھا کہ تیرے قرب کا منظر بھی پیاس ایسا تھا بچھڑ کے تجھ سے تو خود سے بھی شرم آتی ہے ترا وجود بدن پر لباس ایسا تھا خود اپنے دل کی صدا تیری دستکوں سی لگی گماں میں تھا تیرا آنا قیاس ایسا تھا شکست و ریخت کی سختی کو کیسے جھیل گیا ملائمت میں جو پیکر ...

    مزید پڑھیے

2 نظم (Nazm)

    وہ اور میں

    جب زمیں کے پیاسے ہونٹ بوند بوند کو ترسے اس کی کوکھ نے جب بھی سبز بچے جننے کی آرزو میں لب کھولے تب شفیق بادل نے اپنی جاں کے امرت سے اس زمیں کے سینے میں قطرہ قطرہ رس گھولا بے بدن دراڑوں سے زندگی اگا ڈالی ہاں یہ سب ہوا لیکن کوئی آ کے بادل سے صرف اس قدر پوچھے تیری پیاس کا دوزخ سرد ہے کہ ...

    مزید پڑھیے

    مقام جاں

    نمک کے صحرا میں اپنی پلکوں سے ٹکڑے ٹکڑے یہ خواب چن لوں تو تجھ کو دیکھوں شکستہ‌ ہاتھوں سے حسرتوں کے عذاب چن لوں تو تجھ کو دیکھوں جو تجھ کو دیکھوں تو جان پاؤں کہ اس صف دوستاں میں تیرا مقام کیا ہے نقیب جاں تو کہاں کھڑا ہے وہ صف کہ جس نے محبتوں کے گلاب پہنے عظیم چاہت کے سرخ لمحوں کی ...

    مزید پڑھیے