Khaliq Husain Pardesi

خالق حسین پردیسی

خالق حسین پردیسی کی غزل

    اس کے لئے تو کوئی بنی ہی سزا نہیں

    اس کے لئے تو کوئی بنی ہی سزا نہیں ساری خطائیں میری ہیں اس کی خطا نہیں حالات دل خراش نے لب اس کے سی دئے منصف ہمارے شہر کا کچھ بولتا نہیں کس نے چمن میں کاٹی ہے امن و اماں کی شاخ دہشت سے ایک پتا بھی اب ڈولتا نہیں دنیا فقط ہماری ہنسی دیکھتی رہی لیکن ہمارے غم سے کوئی آشنا نہیں سنتے ...

    مزید پڑھیے

    اک حسن سراپا ہے میرے یار غزل میں

    اک حسن سراپا ہے میرے یار غزل میں عاشق نہ کرے کیوں ترا دیدار غزل میں انکار میں مخمور نگاہوں کا اثر ہے ہر شعر نظر آتا ہے سرشار غزل میں اب میرے تصور میں نہیں کوئی اندھیرا بکھرے ہیں ترے حسن کے انوار غزل میں اشعار میں اب صرف سیاست کی ہی باتیں کم ہو گیا ذکر لب و رخسار غزل میں رسوا ...

    مزید پڑھیے