اک حسن سراپا ہے میرے یار غزل میں
اک حسن سراپا ہے میرے یار غزل میں
عاشق نہ کرے کیوں ترا دیدار غزل میں
انکار میں مخمور نگاہوں کا اثر ہے
ہر شعر نظر آتا ہے سرشار غزل میں
اب میرے تصور میں نہیں کوئی اندھیرا
بکھرے ہیں ترے حسن کے انوار غزل میں
اشعار میں اب صرف سیاست کی ہی باتیں
کم ہو گیا ذکر لب و رخسار غزل میں
رسوا کوئی ہو جائے گا پردیسیؔ سمجھ لے
اچھا نہیں یوں عشق کا اظہار غزل میں