اس کے لئے تو کوئی بنی ہی سزا نہیں

اس کے لئے تو کوئی بنی ہی سزا نہیں
ساری خطائیں میری ہیں اس کی خطا نہیں


حالات دل خراش نے لب اس کے سی دئے
منصف ہمارے شہر کا کچھ بولتا نہیں


کس نے چمن میں کاٹی ہے امن و اماں کی شاخ
دہشت سے ایک پتا بھی اب ڈولتا نہیں


دنیا فقط ہماری ہنسی دیکھتی رہی
لیکن ہمارے غم سے کوئی آشنا نہیں


سنتے ہی ذکر میرا وہ بولے رقیب سے
پردیسیؔ آدمی ہے کوئی دیوتا نہیں