Khalid Suhail

خالد سہیل

خالد سہیل کی غزل

    سجا سجا سا نئے موسموں کا چہرہ ہے

    سجا سجا سا نئے موسموں کا چہرہ ہے خزاں کا حسن بہاروں سے بڑھ کے نکھرا ہے رفاقتوں کے سمندر میں شہر بستے ہیں ہر ایک شخص محبت کا اک جزیرہ ہے سفر نصیب ہوا جب سے شاہراہوں پر تو فاصلوں کا بھی احساس مٹتا جاتا ہے ہمارے دور کی تاریکیاں مٹانے کو سحاب درد سے خوشیوں کا چاند ابھرا ہے

    مزید پڑھیے

    ہماری ذات کے جب در کھلے ہیں

    ہماری ذات کے جب در کھلے ہیں کبھی اندر کبھی باہر کھلے ہیں ہمارے گھر میں وہ اپنائیت ہے وہاں آ کر کئی بے گھر کھلے ہیں خزاؤں میں جو ڈوبے تھے تو ہم پر بہاروں کے حسیں منظر کھلے ہیں بظاہر وہ بہت ہی کم سخن تھے کتابوں میں مگر جوہر کھلے ہیں جو بالوں میں سفیدی آ گئی ہے تو پھر جا کر کہیں ...

    مزید پڑھیے

    تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ ان کہی رہ جائے گی

    تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ ان کہی رہ جائے گی گفتگو اتنی بڑھے گی کچھ کمی رہ جائے گی اپنے لفظوں کے سبھی تحفے تجھے دینے کے بعد آخری سوغات میری خامشی رہ جائے گی کشتیاں مضبوط سب بہہ جائیں گی سیلاب میں کاغذی اک ناؤ میری ذات کی رہ جائے گی حرص کے طوفان میں ڈھہ جائیں گے سارے محل شہر ...

    مزید پڑھیے