Khalid Suhail

خالد سہیل

خالد سہیل کی نظم

    اسنو مین

    شہر کے کھیلتے کودتے ننھے منے سے بچوں نے مل کر مجھے برف کی اک پہاڑی سے کاٹا تراشا مرے ہاتھ پاؤں سجائے مجھے برف کے چھوٹے چھوٹے سے گولوں سے مضبوط کر کے بڑے پیار سے ایک چوراہے پہ لا کر کھڑا کر دیا مجھ سے کچھ دیر اٹھکھیلیاں دل لگی کا بہانہ بنیں اور پھر جانے کیوں چند بچوں کے ابرو ...

    مزید پڑھیے

    خواب نگر

    میرا من اک خواب نگر ہے میرے من کی گلیوں، بازاروں اور چوراہوں میں لفظوں، رنگوں اور خوشبوؤں کی ہلکی ہلکی بارش ہوتی رہتی ہے میرا من اک خواب نگر ہے میرے من میں چاہ کے چشمے امن کی نہریں آس کے دریا پیار سمندر ہر سو بہتے رہتے ہیں جن میں نہا کر اپنے بھی بیگانے بھی دانائی کی دھوپ میں ...

    مزید پڑھیے

    سمندر اور تشنگی

    سمندر کے کنارے چاندنی راتوں میں بیٹھا ان حسیں شاموں کو اکثر یاد کرتا ہوں وہ شامیں جب وہ میرے ساتھ ہوتی تھی سمندر کی نہایت شوخ لہروں میں اکٹھے ہم بھی پتھر پھینکتے تھے اور پھر ہم کھلکھلا کر ہنس دیتے تھے مگر اب چاندنی راتوں میں جب میں سیر کو جاتا ہوں تنہائی کا کمبل اوڑھ لیتا ...

    مزید پڑھیے