ہماری ذات کے جب در کھلے ہیں
ہماری ذات کے جب در کھلے ہیں
کبھی اندر کبھی باہر کھلے ہیں
ہمارے گھر میں وہ اپنائیت ہے
وہاں آ کر کئی بے گھر کھلے ہیں
خزاؤں میں جو ڈوبے تھے تو ہم پر
بہاروں کے حسیں منظر کھلے ہیں
بظاہر وہ بہت ہی کم سخن تھے
کتابوں میں مگر جوہر کھلے ہیں
جو بالوں میں سفیدی آ گئی ہے
تو پھر جا کر کہیں خود پر کھلے ہیں