Khalid Suhail

خالد سہیل

خالد سہیل کے تمام مواد

3 غزل (Ghazal)

    سجا سجا سا نئے موسموں کا چہرہ ہے

    سجا سجا سا نئے موسموں کا چہرہ ہے خزاں کا حسن بہاروں سے بڑھ کے نکھرا ہے رفاقتوں کے سمندر میں شہر بستے ہیں ہر ایک شخص محبت کا اک جزیرہ ہے سفر نصیب ہوا جب سے شاہراہوں پر تو فاصلوں کا بھی احساس مٹتا جاتا ہے ہمارے دور کی تاریکیاں مٹانے کو سحاب درد سے خوشیوں کا چاند ابھرا ہے

    مزید پڑھیے

    ہماری ذات کے جب در کھلے ہیں

    ہماری ذات کے جب در کھلے ہیں کبھی اندر کبھی باہر کھلے ہیں ہمارے گھر میں وہ اپنائیت ہے وہاں آ کر کئی بے گھر کھلے ہیں خزاؤں میں جو ڈوبے تھے تو ہم پر بہاروں کے حسیں منظر کھلے ہیں بظاہر وہ بہت ہی کم سخن تھے کتابوں میں مگر جوہر کھلے ہیں جو بالوں میں سفیدی آ گئی ہے تو پھر جا کر کہیں ...

    مزید پڑھیے

    تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ ان کہی رہ جائے گی

    تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ ان کہی رہ جائے گی گفتگو اتنی بڑھے گی کچھ کمی رہ جائے گی اپنے لفظوں کے سبھی تحفے تجھے دینے کے بعد آخری سوغات میری خامشی رہ جائے گی کشتیاں مضبوط سب بہہ جائیں گی سیلاب میں کاغذی اک ناؤ میری ذات کی رہ جائے گی حرص کے طوفان میں ڈھہ جائیں گے سارے محل شہر ...

    مزید پڑھیے

3 نظم (Nazm)

    اسنو مین

    شہر کے کھیلتے کودتے ننھے منے سے بچوں نے مل کر مجھے برف کی اک پہاڑی سے کاٹا تراشا مرے ہاتھ پاؤں سجائے مجھے برف کے چھوٹے چھوٹے سے گولوں سے مضبوط کر کے بڑے پیار سے ایک چوراہے پہ لا کر کھڑا کر دیا مجھ سے کچھ دیر اٹھکھیلیاں دل لگی کا بہانہ بنیں اور پھر جانے کیوں چند بچوں کے ابرو ...

    مزید پڑھیے

    خواب نگر

    میرا من اک خواب نگر ہے میرے من کی گلیوں، بازاروں اور چوراہوں میں لفظوں، رنگوں اور خوشبوؤں کی ہلکی ہلکی بارش ہوتی رہتی ہے میرا من اک خواب نگر ہے میرے من میں چاہ کے چشمے امن کی نہریں آس کے دریا پیار سمندر ہر سو بہتے رہتے ہیں جن میں نہا کر اپنے بھی بیگانے بھی دانائی کی دھوپ میں ...

    مزید پڑھیے

    سمندر اور تشنگی

    سمندر کے کنارے چاندنی راتوں میں بیٹھا ان حسیں شاموں کو اکثر یاد کرتا ہوں وہ شامیں جب وہ میرے ساتھ ہوتی تھی سمندر کی نہایت شوخ لہروں میں اکٹھے ہم بھی پتھر پھینکتے تھے اور پھر ہم کھلکھلا کر ہنس دیتے تھے مگر اب چاندنی راتوں میں جب میں سیر کو جاتا ہوں تنہائی کا کمبل اوڑھ لیتا ...

    مزید پڑھیے