Khalid Raheem

خالد رحیم

خالد رحیم کے تمام مواد

12 غزل (Ghazal)

    کب پیڑ کی مانند ٹھہرتے ہیں مسافر

    کب پیڑ کی مانند ٹھہرتے ہیں مسافر سورج کو لیے ساتھ گزرتے ہیں مسافر یوں خوف فسادات سے چپکا ہے زمانہ اب شہر میں آنے سے بھی ڈرتے ہیں مسافر تاریکئ شب کاہکشاں مانگ رہی ہے پھر رات کے پہلو میں سنورتے ہیں مسافر گھر سے تو نکل آئے ہیں جذبات کی رو میں نیرنگئ حالات سے ڈرتے ہیں مسافر ساحل ...

    مزید پڑھیے

    ابھی روشن ہوئی ہیں میرے گھر کی بتیاں مجھ سے

    ابھی روشن ہوئی ہیں میرے گھر کی بتیاں مجھ سے ہوا پھر لے نہ جائے چھین کر پرچھائیاں مجھ سے کروں آنکھوں سے نم مٹی خلاؤں پھول رستے میں تقاضا کر رہی ہیں خواہشوں کی بستیاں مجھ سے یہ روز و شب کے ہنگامے در و دیوار کے اندر بتاؤں کیا سلجھتی ہی نہیں اب گتھیاں مجھ سے کسی سے مسکرا کر بات کر ...

    مزید پڑھیے

    وہ شخص کون تھا مڑ مڑ کے دیکھتا تھا مجھے

    وہ شخص کون تھا مڑ مڑ کے دیکھتا تھا مجھے اکیلا بیٹھ کے پہروں جو سوچتا تھا مجھے میں اس کے پاس سے گزرا تو یہ ہوا محسوس وہ دھوپ سر پہ لیے چھاؤں دے رہا تھا مجھے الٹ رہا تھا مری زندگی کے وہ اوراق کسی کتاب کی مانند پڑھ رہا تھا مجھے اسی میں دیکھ رہا تھا میں اپنا عکس خیال وہ ایک چہرہ کہ ...

    مزید پڑھیے

    حصار گرد میں تنہا کھڑا ہوں

    حصار گرد میں تنہا کھڑا ہوں میں اپنی خواہشوں کا سلسلہ ہوں خلا کی وسعتوں کو ناپتا ہوں غبار رہ گزر اڑتا ہوا ہوں وہ اتنا پاس ہے میرے کہ اس کو میں آنکھیں بند کرکے دیکھتا ہوں ہزاروں میل کا لمبا سفر ہے میں لمحوں میں جسے طے کر رہا ہوں یقیں آئے نہ آئے تم کو لیکن میں اپنی کھوج میں گھر سے ...

    مزید پڑھیے

    ہنس ہنس کے بولنے کی فضا کون لے گیا

    ہنس ہنس کے بولنے کی فضا کون لے گیا آنگن سے شور و غل کی صدا کون لے گیا پینے لگی ہیں زہر تفکر شرارتیں بچوں سے بھولے پن کی ادا کون لے گیا سچ بولنے کی ساری روایت کہاں گئی ورثے میں جو ملی تھی فضا کون لے گیا دے کے شجر شجر کو اداسی کی تیز دھوپ شاخوں سے پتیوں کی ردا کون لے گیا آسودگی کی ...

    مزید پڑھیے

تمام