Khalid Mahmood Zaki

خالد محمود ذکی

خالد محمود ذکی کی غزل

    بنا بنا کے عکس خد و خال رکھ دیئے گئے

    بنا بنا کے عکس خد و خال رکھ دیئے گئے کہ آئنے ہٹا دئیے خیال رکھ دیئے گئے جو بات قتل کی گئی وہی تو ایک بات تھی سخن سرائے وقت میں ملال رکھ دیئے گئے کوئی نہ خود کو پا سکے یہ اور بات ہے مگر کمی کجی کے رنگ میں کمال رکھ دیئے گئے کبھی جو ایک شہر تھا قفس بنا دیا گیا جہاں بھی رکھے جا سکے تھے ...

    مزید پڑھیے

    پہلے تو شہر بھر میں مثال آئنے ہوئے

    پہلے تو شہر بھر میں مثال آئنے ہوئے پھر گرد سے سراپا سوال آئنے ہوئے چہرہ چھپائے پھرتا ہے گہرے نقاب میں اک شخص کو تو لو کی مثال آئنے ہوئے ہم کو سزا ملی کہ اجالے تھے آئنے سو اپنی جاں پہ سارا وبال آئنے ہوئے پھر یوں ہوا کہ ضبط کی صورت نہیں رہی اور شہر بےنوا کے غزال آئنے ہوئے جن کے ...

    مزید پڑھیے

    ایک پیکر ہے کہ امسال میں آتا ہی نہیں

    ایک پیکر ہے کہ امسال میں آتا ہی نہیں جیسے آئینہ خد و خال میں آتا ہی نہیں آسماں کا یہ قفس قید کرے بھی کیسے دل وہ پنچھی کہ پر و بال میں آتا ہی نہیں ہم جسے دیکھتے ہیں اس کے علاوہ بھی ہے اک زمانہ جو مہ و سال میں آتا ہی نہیں اپنے رہنے کو بھی کیا شہر ملا ہے جس کا حال یہ ہے کہ کسی حال میں ...

    مزید پڑھیے

    عجب اک بات اس کی بات میں تھی

    عجب اک بات اس کی بات میں تھی کہ خوشبو پیڑ کے ہر پات میں تھی تمہیں ہم سے محبت کا گلا تھا محبت کب ہمارے ہاتھ میں تھی یہ ایسے تھے کہ خوش آتے بہت تھے کوئی خوشبو انہی دن رات میں تھی عجب موسم تمہارے بعد آئے عجب بے رونقی برسات میں تھی اندھیرے میں نظر آنے لگا تھا کوئی تو روشنی ظلمات ...

    مزید پڑھیے

    گزری ہوئی وہ رت کبھی آنی تو ہے نہیں

    گزری ہوئی وہ رت کبھی آنی تو ہے نہیں دل نے مگر یہ بات بھی مانی تو ہے نہیں اے قصہ گو یہ لہجہ ترا یوں کبھی نہ تھا کچھ تو بتا یہ کیا ہے کہانی تو ہے نہیں کچھ اس کے مسکرانے سے اندازہ ہو تو ہو اندر کی چوٹ ہے نظر آنی تو ہے نہیں پھر اس گلی نہ جانے پہ راضی ہوا تو ہے اب کے بھی دل نے بات نبھانی ...

    مزید پڑھیے

    ہم تو آسان سمجھتے تھے کہ رستہ کم تھا

    ہم تو آسان سمجھتے تھے کہ رستہ کم تھا اس مسافت میں محبت کا علاقہ کم تھا یوں تو دیوار کے پہلو میں کھڑے تھے ہم بھی دھوپ ایسی تھی کہ دیوار کا سایہ کم تھا کیسا لمحہ تھا کہ ہم ترک سفر کر بیٹھے خواب کم تھے نہ ترے غم کا اثاثہ کم تھا قامت حسن میں ثانی ہی نہیں تھا اس کا شہر بے فیض ترا ذوق ...

    مزید پڑھیے

    تجھے پا کر بھی جب کوئی کمی محسوس ہوتی ہے

    تجھے پا کر بھی جب کوئی کمی محسوس ہوتی ہے تو پھر یہ سانس بھی رکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے جو کہنا ہی نہیں اس کا اشارہ کیوں دیا جائے کہ ایسی بات تو کچھ اور بھی محسوس ہوتی ہے عدیم الفرصتی شدت سے اس کا یاد آ جانا غنیمت ہے اگر یہ تشنگی محسوس ہوتی ہے پلٹ کر آ گئے ہو تم تو کیوں آئے نہیں ...

    مزید پڑھیے

    اشکوں سے دھل کے آئنہ خانہ بدل گیا

    اشکوں سے دھل کے آئنہ خانہ بدل گیا بارش ہوئی تو موسم رفتہ بدل گیا جب بھی سنبھالا چاند نے برباد شہر کو دیوار و در وہی رہے نقشہ بدل گیا اک دشت بے اماں میں سفر کر رہے تھے ہم سانسیں اکھڑ گئیں کبھی رستہ بدل گیا اتری نظر سے گرد تو منظر کچھ اور تھا یوں لگ رہا تھا جیسے وہ چہرہ بدل گیا ہر ...

    مزید پڑھیے

    مبتلا خود کو کسی غم میں مسلسل رکھنا

    مبتلا خود کو کسی غم میں مسلسل رکھنا اور اس غم کو تری آنکھ سے اوجھل رکھنا چاند کھڑکی میں کبھی دھوپ میں بادل رکھنا دھیان رکھنا جو کسی کا تو ہر اک پل رکھنا چلنا سیکھا ہی نہیں راہ سے ہٹ کر ہم نے اک قدم اس کی طرف اک سوئے مقتل رکھنا دیکھنا ماند نہ پڑ جائیں غم ہجر میں یہ تم شب وصل کا ان ...

    مزید پڑھیے

    وہ جو اعتبار جمال تھے وہ کہاں گئے

    وہ جو اعتبار جمال تھے وہ کہاں گئے وہ جو آپ اپنی مثال تھے وہ کہاں گئے کبھی ہر طرف کوئی دل کشی سی محیط تھی اسی دشت میں جو غزال تھے وہ کہاں گئے کہیں ایک پل کو بھی تو نظر نہیں آ رہا غم دل ترے مہ و سال تھے وہ کہاں گئے وہ جو خواب لے کے چلے تھے ہم وہ کہاں گیا وہ جو اس کے غم میں نڈھال تھے وہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2