آنکھیں اسیر خواب تھیں خواب ایک ہی سے تھے
آنکھیں اسیر خواب تھیں خواب ایک ہی سے تھے ہر ایک جاں پہ اب کے عذاب ایک ہی سے تھے راہ وفائے شوق میں واماندگی کے بعد جو بھی ملے تھے خار گلاب ایک ہی سے تھے بین السطور ان کے معانی جدا نہ تھے جتنے بھی مختلف تھے نصاب ایک ہی سے تھے وہ تو کہیں نہیں تھے جنہیں ڈھونڈھتا تھا میں جو رہ گئے تھے ...