ایک پیکر ہے کہ امسال میں آتا ہی نہیں

ایک پیکر ہے کہ امسال میں آتا ہی نہیں
جیسے آئینہ خد و خال میں آتا ہی نہیں


آسماں کا یہ قفس قید کرے بھی کیسے
دل وہ پنچھی کہ پر و بال میں آتا ہی نہیں


ہم جسے دیکھتے ہیں اس کے علاوہ بھی ہے
اک زمانہ جو مہ و سال میں آتا ہی نہیں


اپنے رہنے کو بھی کیا شہر ملا ہے جس کا
حال یہ ہے کہ کسی حال میں آتا ہی نہیں


مانتا کب ہے کسی سود و زیاں کو یہ دل
ایسا وحشی ہے کسی چال میں آتا ہی نہیں