Khalid Iqbal Yasir

خالد اقبال یاسر

خالد اقبال یاسر کی غزل

    داستاں کے رخ نما ابواب چوری ہو گئے

    داستاں کے رخ نما ابواب چوری ہو گئے لٹ گئے اوقاف سب اعراب چوری ہو گئے بے غرض جاں نذر کرنے کی روایت پٹ چکی عشق کے دربار کے آداب چوری ہو گئے تھے گرہ میں کچھ نتیجے کچھ ادھورے تجربے علتیں غارت ہوئیں اسباب چوری ہو گئے بھاپ بن کر اڑ گئے یا ہو گئے گم ریت میں بند باندھے رہ گئے دریاب چوری ...

    مزید پڑھیے

    دربار میں جب عرض ہنر اور طرح کی

    دربار میں جب عرض ہنر اور طرح کی سلطاں نے مرے فن کی قدر اور طرح کی دیکھا جو زمانے نے مجھے ترچھی نظر سے میں نے بھی زمانے پہ نظر اور طرح کی ملتا ہی نہ تھا کوئی مجھے ایک طرح کا میں نے بھی تو عمر اپنی بسر اور طرح کی شاہاں نے بہت راہ پہ لانا مجھے چاہا میری بھی طبیعت تھی مگر اور طرح ...

    مزید پڑھیے

    جو ربط میری تری نبض ڈوبنے تک ہے

    جو ربط میری تری نبض ڈوبنے تک ہے مبالغہ بھی کریں تو نباہنے تک ہے مری ہی آرزوئے دل کا شعبدہ ہے تو ترا وجود فقط سحر ٹوٹنے تک ہے ارادے کتنی ہی عمروں کے باندھ رکھے ہیں مگر نگاہ کی حد اپنے سامنے تک ہے ترے مزاج کی تبدیلیوں سے واقف ہوں یہ مہربانی مرے ہونٹ کھولنے تک ہے گرہ کشا کبھی سر ...

    مزید پڑھیے

    اک دائرے کی شکل میں کھینچا ہوا حصار

    اک دائرے کی شکل میں کھینچا ہوا حصار یلغار سے کچھ اور بھی بدلا ہوا حصار اک شہر خواب تھا کہ جہاں قلعہ بند تھے اعدا کی یورشوں سے توانا ہوا حصار چاہے رسد کے راستے مسدود تھے بہت جتنا بڑھا محاصرہ پختہ ہوا حصار آباد بستیاں تھیں فصیلوں کے سائے میں آپس میں بستیوں کو ملاتا ہوا ...

    مزید پڑھیے

    کوئی پہلے تو کوئی بعد میں عیار ہوا

    کوئی پہلے تو کوئی بعد میں عیار ہوا اپنی خواہش پہ جو وابستۂ دربار ہوا اک تہی جیب کی زاری کوئی سنتا کیسے رائج ایسے ہی نہیں سکۂ دینار ہوا بات سلطان سے کیا تخلیئے میں اس کی ہوئی مصلحت کیش بتانے پہ نہ تیار ہوا مخبری میری ہوئی چشم زدن میں کیسی قصر دل ہی میں سارا تھا کہ مسمار ہوا راہ ...

    مزید پڑھیے

    جیسی نگاہ تھی تری ویسا فسوں ہوا

    جیسی نگاہ تھی تری ویسا فسوں ہوا جو کچھ ترے خیال میں تھا جوں کا توں ہوا باد مخالفت جو کبھی تیز تر ہوئی سرگرم اور بھی ترا جذب دروں ہوا خورشید آپ لے کے چلا تجھ کو سائے سائے تیری موافقت میں فلک واژگوں ہوا تیرے طفیل جاتی رہی خار سے چبھن شادابیوں میں مزرعہ ہستی فزوں ہوا عظمت کرے ...

    مزید پڑھیے

    گوشمالی سے کب انہوں نے اثر لیا تھا

    گوشمالی سے کب انہوں نے اثر لیا تھا سرکشوں کو جو کام کرنا تھا کر لیا تھا جب اتر آئے تھے وہ بدلہ اتارنے پر گن کے ایک ایک سر کے بدلے میں سر لیا تھا پاؤں چوکھٹ سے باہر اس نے نہیں نکالے جس نے ورثے میں اپنی نبضوں میں ڈر لیا تھا اپنے ہتھیار طاق میں گر سجا دئیے تھے کیوں کسی ایسے شہر میں ...

    مزید پڑھیے

    تعبیر سے محروم ترے خواب بہت تھے

    تعبیر سے محروم ترے خواب بہت تھے سادہ سی کہانی تھی مگر باب بہت تھے آ لگتی کنارے سے مری کشتیٔ جاں بھی شاید کہ مرے پاؤں میں گرداب بہت تھے بے نام ہوئے نام کی تکریم کے ہاتھوں پہچانتا کیا کوئی کہ القاب بہت تھے افسوس تموج انہیں ساحل پہ نہ لایا انمول گہر ورنہ تہہ آب بہت تھے ہر لحظہ ...

    مزید پڑھیے

    غلام کی روز و شب غلامی میں کیا کمی تھی

    غلام کی روز و شب غلامی میں کیا کمی تھی کنیز کے التفات و خوبی میں کیا کمی تھی انہیں در خواب گاہ سے کس لیے ہٹایا محافظوں کی وفا شعاری میں کیا کمی تھی جلال گیتی ستاں سے دربار کانپتا تھا مقربوں کی مزاج فہمی میں کیا کمی تھی گراں گزرتا تھا کیوں طبیعت پہ ساتھ اس کا وزیر زادے کی نکتہ ...

    مزید پڑھیے

    ایسا بھی نہیں بھولے سے خواہش ہی نہیں کی

    ایسا بھی نہیں بھولے سے خواہش ہی نہیں کی پانے کی اسے شوق سے کوشش ہی نہیں کی اس نے تبھی نروان کے قابل نہیں جانا اس بت کی دل و جاں سے پرستش ہی نہیں کی برسا وہ مرے جوتے ہوئے کھیت پہ اک بار بادل نے پلٹ کر کبھی بارش ہی نہیں کی اس حسن مجسم کو شکایت ہے کہ میں نے غیروں کی طرح اس کی ستائش ہی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2