دربار میں جب عرض ہنر اور طرح کی
دربار میں جب عرض ہنر اور طرح کی
سلطاں نے مرے فن کی قدر اور طرح کی
دیکھا جو زمانے نے مجھے ترچھی نظر سے
میں نے بھی زمانے پہ نظر اور طرح کی
ملتا ہی نہ تھا کوئی مجھے ایک طرح کا
میں نے بھی تو عمر اپنی بسر اور طرح کی
شاہاں نے بہت راہ پہ لانا مجھے چاہا
میری بھی طبیعت تھی مگر اور طرح کی
منزل جو مری دوسرے لوگوں سے الگ تھی
ایسے ہی نہ تھی میری ڈگر اور طرح کی
لفظوں سے سدا کام لیا میں نے زرہ کا
تلوار مری اور سپر اور طرح کی
کچھ اور تھے یاسرؔ مرے پیغام کے تیور
آئی تھی ادھر سے بھی خبر اور طرح کی