Khalid Iqbal Yasir

خالد اقبال یاسر

خالد اقبال یاسر کی غزل

    لگے جب پیاس تو رستا لہو پینے نہیں دیتا

    لگے جب پیاس تو رستا لہو پینے نہیں دیتا ادھڑتی کھال بھی میری مجھے سینے نہیں دیتا تمنا موت کی رد ہو گئی ہے وقت کے ڈر سے اگر میں زندگی مانگوں مجھے جینے نہیں دیتا خود اپنی شکل دیکھے ایک مدت ہو گئی مجھ کو اٹھا لیتا ہے پتھر ٹوٹے آئینے نہیں دیتا دلوں کو کھینچنے والا ترنم کھو چکا ان ...

    مزید پڑھیے

    کبھی نہ آسودۂ عمل ہو مگر ارادہ بھی کم نہیں ہے

    کبھی نہ آسودۂ عمل ہو مگر ارادہ بھی کم نہیں ہے اور اس ارادے کا اونچی آواز میں اعادہ بھی کم نہیں ہے شہنشہ وقت اور درباری اپنے سود و زیاں سے واقف سریر آرائے سلطنت کوئی خانوادہ بھی کم نہیں ہے عصائے فرماں روائی جادو جگائے جس طور بھی روا ہے رموز اسرار حکمرانی میں شاہزادہ بھی کم نہیں ...

    مزید پڑھیے

    پلا ہوں نفرت کی آندھیوں میں مگر محبت سے منہ نہ موڑوں

    پلا ہوں نفرت کی آندھیوں میں مگر محبت سے منہ نہ موڑوں ہمیشہ بازو کشادہ رکھوں کبھی مروت سے منہ نہ موڑوں زمانے بھر کی تمام تلخی ہو چاہے میرے لہو میں شامل پرانی ناکامیوں سے ڈر کے نئی شرارت سے منہ نہ موڑوں جبیں پہ ناگاہ پڑنے والی شکن اگر مستقل ہوئی ہے تو زیر لب مسکراتے رہنے کی اچھی ...

    مزید پڑھیے

    سینچی ہیں میں نے کتنی زمینیں نئی نئی

    سینچی ہیں میں نے کتنی زمینیں نئی نئی پھوٹیں سخن کے پیڑ سے شاخیں نئی نئی پہلے بھی کم نہیں تھے نگہ دار دمدمے اٹھتی ہی جا رہی ہیں فصیلیں نئی نئی گرچہ ہیں آزمودہ شہہ و قاضی و وزیر باندھی ہیں ان سے پھر بھی امیدیں نئی نئی میداں میں فیصلے ہوا کرتے تھے تیغ پر اب اور اور پینترے چالیں ...

    مزید پڑھیے

    شاہ عالم کو سر عام سنا بیٹھا ہوں

    شاہ عالم کو سر عام سنا بیٹھا ہوں میرے مولا تری چوکھٹ سے لگا بیٹھا ہوں مجھے معلوم ہیں آداب نشست و برخاست ترے دربار میں اک عمر اٹھا بیٹھا ہوں اسی موسم کی تمنا تھی کئی برسوں سے بادباں کھولنے تھے اور گرا بیٹھا ہوں بھول جانا تھا جسے ثبت ہے دل پر میرے یاد رکھنا تھا جسے اس کو بھلا ...

    مزید پڑھیے

    زمانے کے دربار میں دست بستہ ہوا ہے

    زمانے کے دربار میں دست بستہ ہوا ہے یہ دل اس پہ مائل مگر رفتہ رفتہ ہوا ہے اچانک ہی ہتھیار والے نہیں سخت جاں نے جگر وقت کے ساتھ خستہ شکستہ ہوا ہے کہیں اندر اندر سلگتی تھی چنگاری کوئی مگر حادثہ آخر کار شام گزشتہ ہوا ہے کئی بار جلاد نے کھینچ دیکھا ہے اس کو مگر منجمد دار کا سرد تختہ ...

    مزید پڑھیے

    لگتا ہے زندہ رہنے کی حسرت گئی نہیں

    لگتا ہے زندہ رہنے کی حسرت گئی نہیں مر کے بھی سانس لینے کی عادت گئی نہیں شاید کہ رچ گئی ہے ہمارے خمیر میں سو بار صلح پر بھی عداوت گئی نہیں آنا پڑا پلٹ کے حدود و قیود میں چھوڑی بہت تھی پھر بھی شرافت گئی نہیں رہتی ہے ساتھ ساتھ کوئی خوش گوار یاد تجھ سے بچھڑ کے تیری رفاقت گئی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2