Khalid Basheer

خالد بشیر

خالد بشیر کی غزل

    اتر گئے دریا میں پھر گہرائی کا اندازہ کیا

    اتر گئے دریا میں پھر گہرائی کا اندازہ کیا حبس سے باہر جانا ہے تو کھڑکی کیا دروازہ کیا کس دشمن لشکر کی نازک خوابوں پر یلغار ہوئی بکھر گیا ہے اتنی جلدی بستی کا شیرازہ کیا مدت سے جو بند پڑے تھے سارے دریچے کھول دئے اب کمرے میں در آئیں گی دیکھو ہوائیں تازہ کیا لمبی تان کے سونے والو ...

    مزید پڑھیے

    دیکھا جو کچھ اس سے زیادہ اور بھی ہے

    دیکھا جو کچھ اس سے زیادہ اور بھی ہے آنکھوں سے منظر کا وعدہ اور بھی ہے عشق میں لٹنے پٹنے کا غم کچھ بھی نہیں اس رستے میں دل کا ارادہ اور بھی ہے صورت سے معصوم تو ہے ہی لیکن وہ بات کا سچا دل کا سادہ اور بھی ہے اپنا عزم سمیٹو میرے ہم سفرو رستہ پہلے سے افتادہ اور بھی ہے

    مزید پڑھیے

    وفا کا دور ہے جب سے زوال آمادہ

    وفا کا دور ہے جب سے زوال آمادہ یہ دل ہوا ہے زیادہ وصال آمادہ عجیب رت میں گلوں پر بہار آئی ہے پرند شوق کہ ہے انتقال آمادہ بڑی لطیف تھی وہ بات جس کے سننے سے لہو بدن میں ہوا ہے ابال آمادہ کوئی سخن کوئی کوشش بھی کارگر نہ ہوئی مزاج یار بہت ہے ملال آمادہ گزر نہ جائیں انہیں روک لو کہ ...

    مزید پڑھیے