وفا کا دور ہے جب سے زوال آمادہ

وفا کا دور ہے جب سے زوال آمادہ
یہ دل ہوا ہے زیادہ وصال آمادہ


عجیب رت میں گلوں پر بہار آئی ہے
پرند شوق کہ ہے انتقال آمادہ


بڑی لطیف تھی وہ بات جس کے سننے سے
لہو بدن میں ہوا ہے ابال آمادہ


کوئی سخن کوئی کوشش بھی کارگر نہ ہوئی
مزاج یار بہت ہے ملال آمادہ


گزر نہ جائیں انہیں روک لو کہ اب بھی ہیں
رفاقتوں کے لئے ماہ و سال آمادہ