دیکھا جو کچھ اس سے زیادہ اور بھی ہے
دیکھا جو کچھ اس سے زیادہ اور بھی ہے
آنکھوں سے منظر کا وعدہ اور بھی ہے
عشق میں لٹنے پٹنے کا غم کچھ بھی نہیں
اس رستے میں دل کا ارادہ اور بھی ہے
صورت سے معصوم تو ہے ہی لیکن وہ
بات کا سچا دل کا سادہ اور بھی ہے
اپنا عزم سمیٹو میرے ہم سفرو
رستہ پہلے سے افتادہ اور بھی ہے