Khalid Basheer

خالد بشیر

خالد بشیر کے تمام مواد

3 غزل (Ghazal)

    اتر گئے دریا میں پھر گہرائی کا اندازہ کیا

    اتر گئے دریا میں پھر گہرائی کا اندازہ کیا حبس سے باہر جانا ہے تو کھڑکی کیا دروازہ کیا کس دشمن لشکر کی نازک خوابوں پر یلغار ہوئی بکھر گیا ہے اتنی جلدی بستی کا شیرازہ کیا مدت سے جو بند پڑے تھے سارے دریچے کھول دئے اب کمرے میں در آئیں گی دیکھو ہوائیں تازہ کیا لمبی تان کے سونے والو ...

    مزید پڑھیے

    دیکھا جو کچھ اس سے زیادہ اور بھی ہے

    دیکھا جو کچھ اس سے زیادہ اور بھی ہے آنکھوں سے منظر کا وعدہ اور بھی ہے عشق میں لٹنے پٹنے کا غم کچھ بھی نہیں اس رستے میں دل کا ارادہ اور بھی ہے صورت سے معصوم تو ہے ہی لیکن وہ بات کا سچا دل کا سادہ اور بھی ہے اپنا عزم سمیٹو میرے ہم سفرو رستہ پہلے سے افتادہ اور بھی ہے

    مزید پڑھیے

    وفا کا دور ہے جب سے زوال آمادہ

    وفا کا دور ہے جب سے زوال آمادہ یہ دل ہوا ہے زیادہ وصال آمادہ عجیب رت میں گلوں پر بہار آئی ہے پرند شوق کہ ہے انتقال آمادہ بڑی لطیف تھی وہ بات جس کے سننے سے لہو بدن میں ہوا ہے ابال آمادہ کوئی سخن کوئی کوشش بھی کارگر نہ ہوئی مزاج یار بہت ہے ملال آمادہ گزر نہ جائیں انہیں روک لو کہ ...

    مزید پڑھیے