Khaleeq-ur-rahman

خلیق الرحمان

خلیق الرحمان کی نظم

    دھیان قبر میں اترتا خیال

    میرا رستہ قبرستان سے ہو کر آگے جاتا ہے اس رستے سے اور بھی لوگ گزر کر آگے جاتے ہیں لیکن میرے ساتھ ہی آخر سائے سے کیوں رہتے ہیں میرے من میں آخر کیسی ویرانی قبروں کی ہے رات کی خاموشی میں جھینگر کی ہیں کیسی آوازیں کچھ دن سے مٹی کی خوشبو کیوں چپکی ہے سانسوں سے میرے پاؤں خاک سے لگ کر کس ...

    مزید پڑھیے