دھیان قبر میں اترتا خیال
میرا رستہ قبرستان سے ہو کر آگے جاتا ہے اس رستے سے اور بھی لوگ گزر کر آگے جاتے ہیں لیکن میرے ساتھ ہی آخر سائے سے کیوں رہتے ہیں میرے من میں آخر کیسی ویرانی قبروں کی ہے رات کی خاموشی میں جھینگر کی ہیں کیسی آوازیں کچھ دن سے مٹی کی خوشبو کیوں چپکی ہے سانسوں سے میرے پاؤں خاک سے لگ کر کس ...