Khaleel Mamoon

خلیل مامون

ممتاز شاعر۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

Prominent poet, recipient of Sahitya Academy award.

خلیل مامون کی غزل

    زیادہ کچھ نہیں مر جائیں گے کسی دن ہم

    زیادہ کچھ نہیں مر جائیں گے کسی دن ہم ہر ایک شے سے مکر جائیں گے کسی دن ہم ہر ایک جگہ بھٹکتے پھریں گے ساری عمر بالآخر اپنے ہی گھر جائیں گے کسی دن ہم نہ دیکھ روز حقارت سے اس قدر ہم کو کوئی تو کام بھی کر جائیں گے کسی دن ہم تمہاری راہ میں ہر چیز تو لٹا ڈالی یہ جسم و جان بھی دھر جائیں گے ...

    مزید پڑھیے

    ہمارے پاس نہ دل ہے نہ دل کی بات کوئی

    ہمارے پاس نہ دل ہے نہ دل کی بات کوئی گزر رہی ہے ہمارے سروں سے رات کوئی اکیلے ملتے ہیں صحرا ہو یا کہ دریا ہو کسی کے ساتھ نہیں ہم نہ اپنے ساتھ کوئی ہمارے چہرے پہ سو رنگ کی بہاریں ہیں کہ جیسے قلب میں زندہ ہے کائنات کوئی اب اس کے بعد ہوائیں ہی اس کا مدت ہیں شجر سے ٹوٹ رہا ہے خزاں میں ...

    مزید پڑھیے

    دل میں امنگ اور ارادہ کوئی تو ہو

    دل میں امنگ اور ارادہ کوئی تو ہو بے کیف زندگی میں تماشا کوئی تو ہو یہ کیا کہ دفن ہو گئے چپ چاپ قبر میں مرنے کے بعد موت کا جلسہ کوئی تو ہو کوئی تو نام لے کے پکارے ہمیں یہاں اس بھیڑ میں ہمارا شناسا کوئی تو ہو ملتی نہیں ہے خاک کہیں سر پہ ڈالنے دریا بہت سے دیکھے ہیں صحرا کوئی تو ...

    مزید پڑھیے

    گمان زخم تمنا تھا اب تلک مجھ کو

    گمان زخم تمنا تھا اب تلک مجھ کو نہیں ہے داغ بھی دل میں نہ تھی بھنک مجھ کو چلا گیا تو کبھی لوٹ کر نہیں آیا پکارتا رہا آئینۂ فلک مجھ کو اب اس کو ڈھونڈھتا پھرتا ہوں شہر و دریا میں چلا گیا وہ دکھا کر بس اک جھلک مجھ کو نڈھال ہوں میں غم دل سے ہوش کب ہے مجھے بنائے رکھتی ہے اک ہوک اک کسک ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3