Khaleel Mamoon

خلیل مامون

ممتاز شاعر۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

Prominent poet, recipient of Sahitya Academy award.

خلیل مامون کے تمام مواد

24 غزل (Ghazal)

    گھر کو یوں توڑو کہ پھر حسرت تعمیر نہ ہو

    گھر کو یوں توڑو کہ پھر حسرت تعمیر نہ ہو کوئی تقدیر نہ ہو اور کوئی تدبیر نہ ہو ایسے مر جائیں کوئی نقش نہ چھوڑیں اپنا یاد دل میں نہ ہو اخبار میں تصویر نہ ہو بیٹھے بیٹھے یونہی اندھیارے میں زائل ہو جائیں کوئی دم ساز نہ ہو کوئی خبر گیر نہ ہو نیند میں تتلیاں آنکھوں میں لہکتی ...

    مزید پڑھیے

    اس شہر سنگ سخت سے گھبرا گیا ہوں میں

    اس شہر سنگ سخت سے گھبرا گیا ہوں میں جنگل کی خوشبوؤں کی طرف جا رہا ہوں میں منظر کو دیکھ دیکھ کے آنکھیں چلی گئیں ہاتھوں سے آج اپنا بدن ڈھونڈھتا ہوں میں چلا رہا ہے کوئی میرے لمس کے لیے اندھیاری وادیوں سے نکل بھاگتا ہوں میں قاتل کے ہاتھ میں کوئی تلوار ہے نہ تیغ وہ مسکرا رہا ہے مرا ...

    مزید پڑھیے

    نہ نیند ہے نہ خواب ہے نہ یاد ہے نہ رات ہے

    نہ نیند ہے نہ خواب ہے نہ یاد ہے نہ رات ہے زمیں نہ آسمان ہے زماں نہ کائنات ہے یہ جسم و جاں کا قافلہ ہے راستہ پہ کون سے نہ منزلوں کی آس ہے نہ رہروؤں کا ساتھ ہے امید و آرزو کے رنگ کیوں پھیکے لگ رہے ہیں اب کمی ہے آب و گل میں کچھ لہو میں کوئی بات ہے ہے ان کے واسطے تمام فتح و ...

    مزید پڑھیے

    بلا رہا ہے مجھے آسماں تمہاری طرف

    بلا رہا ہے مجھے آسماں تمہاری طرف جلا کے نکلا ہوں سب آشیاں تمہاری طرف میں جانتا ہوں کہ سارے جہاں ہیں ختم یہاں مجھے ملے گا نہ کوئی جہاں تمہاری طرف خموشیوں کا بس اک سلسلہ ہے دور تلک نہ کوئی لفظ نہ کوئی زباں تمہاری طرف ہر ایک جیتا ہے وسعت میں کائناتوں کے کوئی بناتا نہیں ہے مکاں ...

    مزید پڑھیے

    شب سیاہ سے نکلے گا ماہتاب کوئی

    شب سیاہ سے نکلے گا ماہتاب کوئی افق میں دیکھتے رہیے گا روز خواب کوئی جواب ڈھونڈ کے سارے جہاں سے جب لوٹے ہمیں تو کر گیا یک لخت لا جواب کوئی چمن سے نکلے ہیں اک پھول توڑ کر ہم بھی لہولہان سے ہاتھوں میں ہے گلاب کوئی ملیں تو کیسے ملیں جائیں تو کہاں جائیں کہ کر رہا ہے بہت ہم سے اجتناب ...

    مزید پڑھیے

تمام

7 نظم (Nazm)

    مجھے ابھی بہت دور جانا ہے

    کیا پیروں کی تھکن اس سفر کو روک سکتی ہے کیا راستے کے روڑے میرے ارادے کو توڑ سکتے ہیں کیا میں یہاں سے واپس لوٹ جاؤں گا کیا میں اور آگے چل نہیں پاؤں گا نہیں نہیں شاید مجھے جانا ہے بہت دور گو ہوں میں تھکن سے چور اور بے زار ہر منظر سے جو بار بار لوٹ کر نظر کی اکتاہٹ بن جاتا ہے وہی ...

    مزید پڑھیے

    شاعری مت کرو

    کانٹوں کے تاج چنو یا جب سچ کی راہ چلو لفظوں کے پیچ و تاب میں الو نہ بنو شاعری مت کرو! موٹے جھوٹے یجمانوں کی جھڑکیاں ہوں یا کاہل ریاکار افسروں کا پھٹکاریں یا پھر دبلی پتلی دق زدہ بیویوں کے طعنے ہوں یا طوطا چشم عیار رت بدلی محبوباؤں کی جھوٹی مسکراہٹیں خاموش رہو ہر شے کو قدرت کا ...

    مزید پڑھیے

    لکھنا جو چاہتا تھا

    لکھنا جو چاہتا تھا وہ لکھا نہیں گیا نیندوں میں خواب مٹ گئے الفاظ کھو گئے اک خاموشی کا پیڑ مرے دل میں بو گئے بارش میں بد حواسی کے سارے نقوش حرفوں کے دھندلا کے بہہ گئے آنسو نے جو بھی دیکھا تھا اس کو مٹا دیا دل نے ہوس کی آگ کو ساری جلا دیا کوئی نہ رنگ و روپ دل درد کے قریب آشا بھی مٹ گئی ...

    مزید پڑھیے

    یہ رات

    یہ رات ہے یا حیات ہے پل صراط ہے اندھیرے میں لمحوں کی تیز دھار پر چلے ہوئے ہلکی آنکھ ملتے ہوئے لہولہان قدم لیکن کٹ کر گرتے ہیں نہیں کرتے بھی نہیں زخمی پیر لیے ابھی اور کتنی دور چلنا ہے معلوم نہیں اس راستے کی سرحد ہمیشہ نزدیک دکھائی دیتی ہے لیکن نزدیک پہنچتے ہی معدوم ہو جاتی ہے اور ...

    مزید پڑھیے

    غزال شب کے ساتھ

    میں یہاں نہیں تھا میں وہاں نہیں تھا درد بھرے آسمان میں چیخ بن کے ابھر رہا تھا تنگ گھاٹیوں میں گونج بن رہا تھا سمندروں پہ ریزہ ریزہ گر رہا تھا میں یہاں نہیں تھا کالے جنگلوں کے گھور اندھیرے میں تھا رفتہ رفتہ سب سیاہی مٹ گئی سارے جنگل کٹ گئے ہیولے گھٹتے گھٹتے غزال شب بنے اندھیرے چھٹ ...

    مزید پڑھیے

تمام