Khaleel Mamoon

خلیل مامون

ممتاز شاعر۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

Prominent poet, recipient of Sahitya Academy award.

خلیل مامون کی غزل

    جنوں زیادہ بہت ہوتا عقل کم ہوتی

    جنوں زیادہ بہت ہوتا عقل کم ہوتی میں قہقہہ بھی لگاتا تو آنکھ نم ہوتی ہزاروں چاند ستارے چمک گئے ہوتے کبھی نظر جو تری مائل کرم ہوتی نہیں ہے مصلحت غم کو آرزو تری ترا جو غم بھی نہ ہوتا تو آنکھ نم ہوتی ہر ایک زہر کو تم نے بنا دیا تریاک جو تم نہ ہوتے ہر اک سانس میری سم ہوتی ٹھہر نہ ...

    مزید پڑھیے

    ایسا ہو زندگی میں کوئی خواب ہی نہ ہو

    ایسا ہو زندگی میں کوئی خواب ہی نہ ہو اندھیاری رات میں کوئی مہتاب ہی نہ ہو سوکھے درخت کی طرح دریا میں گر پڑیں مرنے کے واسطے کوئی سیلاب ہی نہ ہو پوجا کریں مگر نہ دعا کو اٹھائیں ہاتھ شہر ہوس میں معبد ارباب ہی نہ ہو مر جائیں اس سے پہلے کہ وہ فیصلہ کریں ہاتھوں میں کوئی پیالۂ زہراب ...

    مزید پڑھیے

    جھلستے لمحوں کا لمس لے کر میں چل رہا ہوں

    جھلستے لمحوں کا لمس لے کر میں چل رہا ہوں خود اپنی دوزخ کی آگ کھا کر میں پل رہا ہوں سفر کی روداد بھی مری کچھ عجیب سی ہے میں اخضری پہاڑیوں سے گر کر سنبھل رہا ہوں مرا وجود و عدم بھی اک حادثہ نیا ہے میں دفن ہوں کہیں کہیں سے نکل رہا ہوں چتا بجھا دے کوئی کوئی استھیاں بہا دے میں آرزو ...

    مزید پڑھیے

    جنگلوں میں کہیں کھو جانا ہے

    جنگلوں میں کہیں کھو جانا ہے جانور پھر مجھے ہو جانا ہے راستے میں کہیں سایہ جو ملے عمر بھر کے لیے سو جانا ہے یہ سمندر ہیں بہت نا کافی ساری دنیا کو ڈبو جانا ہے کوئی قیمت نہیں ان اشکوں کی منتقل دھرتی میں ہو جانا ہے کوئی منزل نہیں ملتی مامونؔ کہیں رستے ہی میں سو جانا ہے

    مزید پڑھیے

    نیند چبھنے لگی ہے آنکھوں میں

    نیند چبھنے لگی ہے آنکھوں میں کب تلک جاگنا ہے راتوں میں تم اگر یوں ہی بات کرتے رہے بیت جائے گا وقت باتوں میں انگلیاں ہو گئیں فگار اپنی چھپ گیا ہے گلاب کانٹوں میں شاید اپنا پتہ بھی مل جائے جھانکتا ہوں تری نگاہوں میں سب ہے تیرے سوال میں پنہاں کچھ نہیں ہے مرے جوابوں میں جو نہیں ...

    مزید پڑھیے

    ٹوٹا ہے پرانا سادہ پل لفظوں کا

    ٹوٹا ہے پرانا سادہ پل لفظوں کا اب رشتہ ہے دنیا سے فقط آنکھوں کا وہ بھول گئے ہیں تو عجب کیا اس میں تھا کھیل یہ تو گزرے ہوئے لمحوں کا اک لمحہ میں سب ختم ہے ماضی ہو کہ حال یادوں کا خزانہ تھا بہت برسوں کا سب لوگ ہمیں ایک نظر آتے ہیں اندازہ نہیں ہوتا ہے اب چہروں کا مامونؔ ہیں باتیں ...

    مزید پڑھیے

    صرف چہرہ ہی نظر آتا ہے آئینہ میں

    صرف چہرہ ہی نظر آتا ہے آئینہ میں عکس آئینہ نہیں دکھتا ہے آئینہ میں سلسلہ یاد کا جب ذہن میں جاگ اٹھتا ہے ایک دریا سا امڈ آتا ہے آئینہ میں اپنی آنکھوں کو کبھی غور سے جب دیکھتا ہوں نور چہرہ ترا جاگ اٹھتا ہے آئینہ میں روتے روتے جو کبھی پڑتی ہے اس سمت نظر کوئی نمناک دیا جلتا ہے ...

    مزید پڑھیے

    زخمی دلوں کی پیاس سرابوں میں گم ہوئی

    زخمی دلوں کی پیاس سرابوں میں گم ہوئی جو چشم وا تھی بجھتے چراغوں میں گم ہوئی پھرتی ہے اس کو ڈھونڈتی اب موت کو بہ کو یہ زندگی تو تیری نگاہوں میں گم ہوئی چلنا لکھا ہے اپنے مقدر میں عمر بھر منزل ہماری درد کی راہوں میں گم ہوئی ہم ڈھونڈنے چلے ہیں کہاں پیکر خیال چشم ہوس تو گم شدہ ...

    مزید پڑھیے

    کائنات غم میں ذہن اک خلا ہے

    کائنات غم میں ذہن اک خلا ہے خواب کا پرندہ جس میں اڑ رہا ہے رات کٹ گئی ہے صبح ہو گئی ہے دل کو ڈھونڈیئے مت کب کا جل بجھا ہے درد کے سہارے کب تلک چلیں گے سانس رک رہی ہے فاصلہ بڑا ہے اس جگہ پہ سب نے ہاتھ چھوڑ ڈالا یہ مقام شاید منزل وفا ہے ٹوٹتے بدن میں دل عجیب شے ہے رتیلی زمیں میں پھول ...

    مزید پڑھیے

    لفظ کی کائنات میں گم ہوں

    لفظ کی کائنات میں گم ہوں فکر میں گم ہوں بات میں گم ہوں تم ہو کھوئے ہوئے زمانے میں میں خود اپنی ہی ذات میں گم ہوں کیا عجب تھا جو موت آ جاتی غم تو یہ ہے حیات میں گم ہوں فتح کے جشن میں ہیں سب سرشار میں تو اپنی ہی مات میں گم ہوں تم نے جن مشکلوں میں چھوڑا تھا میں انہیں مشکلات میں گم ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3