Khaleel Mamoon

خلیل مامون

ممتاز شاعر۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

Prominent poet, recipient of Sahitya Academy award.

خلیل مامون کی غزل

    گھر کو یوں توڑو کہ پھر حسرت تعمیر نہ ہو

    گھر کو یوں توڑو کہ پھر حسرت تعمیر نہ ہو کوئی تقدیر نہ ہو اور کوئی تدبیر نہ ہو ایسے مر جائیں کوئی نقش نہ چھوڑیں اپنا یاد دل میں نہ ہو اخبار میں تصویر نہ ہو بیٹھے بیٹھے یونہی اندھیارے میں زائل ہو جائیں کوئی دم ساز نہ ہو کوئی خبر گیر نہ ہو نیند میں تتلیاں آنکھوں میں لہکتی ...

    مزید پڑھیے

    اس شہر سنگ سخت سے گھبرا گیا ہوں میں

    اس شہر سنگ سخت سے گھبرا گیا ہوں میں جنگل کی خوشبوؤں کی طرف جا رہا ہوں میں منظر کو دیکھ دیکھ کے آنکھیں چلی گئیں ہاتھوں سے آج اپنا بدن ڈھونڈھتا ہوں میں چلا رہا ہے کوئی میرے لمس کے لیے اندھیاری وادیوں سے نکل بھاگتا ہوں میں قاتل کے ہاتھ میں کوئی تلوار ہے نہ تیغ وہ مسکرا رہا ہے مرا ...

    مزید پڑھیے

    نہ نیند ہے نہ خواب ہے نہ یاد ہے نہ رات ہے

    نہ نیند ہے نہ خواب ہے نہ یاد ہے نہ رات ہے زمیں نہ آسمان ہے زماں نہ کائنات ہے یہ جسم و جاں کا قافلہ ہے راستہ پہ کون سے نہ منزلوں کی آس ہے نہ رہروؤں کا ساتھ ہے امید و آرزو کے رنگ کیوں پھیکے لگ رہے ہیں اب کمی ہے آب و گل میں کچھ لہو میں کوئی بات ہے ہے ان کے واسطے تمام فتح و ...

    مزید پڑھیے

    بلا رہا ہے مجھے آسماں تمہاری طرف

    بلا رہا ہے مجھے آسماں تمہاری طرف جلا کے نکلا ہوں سب آشیاں تمہاری طرف میں جانتا ہوں کہ سارے جہاں ہیں ختم یہاں مجھے ملے گا نہ کوئی جہاں تمہاری طرف خموشیوں کا بس اک سلسلہ ہے دور تلک نہ کوئی لفظ نہ کوئی زباں تمہاری طرف ہر ایک جیتا ہے وسعت میں کائناتوں کے کوئی بناتا نہیں ہے مکاں ...

    مزید پڑھیے

    شب سیاہ سے نکلے گا ماہتاب کوئی

    شب سیاہ سے نکلے گا ماہتاب کوئی افق میں دیکھتے رہیے گا روز خواب کوئی جواب ڈھونڈ کے سارے جہاں سے جب لوٹے ہمیں تو کر گیا یک لخت لا جواب کوئی چمن سے نکلے ہیں اک پھول توڑ کر ہم بھی لہولہان سے ہاتھوں میں ہے گلاب کوئی ملیں تو کیسے ملیں جائیں تو کہاں جائیں کہ کر رہا ہے بہت ہم سے اجتناب ...

    مزید پڑھیے

    ڈھالتا ہوں شعر میں تنہائیوں کو

    ڈھالتا ہوں شعر میں تنہائیوں کو ڈھونڈھتا ہوں اس میں پھر پرچھائیوں کو کھوکھلی آنکھوں سے مجھ کو گھورتی ہیں دیکھ کر ڈرتا ہوں میں پہنائیوں کو وہ برائی سب سے میری کر رہے ہیں کیوں نہیں کرتے بیاں اچھائیوں کو شہر میں تو قتل سب کا ہو چکا ہے بھیج دو اب دشت میں بلوائیوں کو دل کی بھٹی یہ ...

    مزید پڑھیے

    منزل غم کو پار کر لیں گے

    منزل غم کو پار کر لیں گے درد دل ہی کو یار کر لیں گے تم نہیں آؤ گے خبر ہے ہمیں پھر بھی ہم انتظار کر لیں گے جب تو جائے گا چھوڑ کر ہم کو تیری یادوں سے پیار کر لیں گے خون چھڑکیں گے سوکھی ڈالوں پر ہم خزاں کو بہار کر لیں گے تم ملو تو سہی کہیں ہم کو عشق بے اختیار کر لیں گے کچھ نہیں مل ...

    مزید پڑھیے

    مصروف غم ہیں کون و مکاں جاگتے رہو

    مصروف غم ہیں کون و مکاں جاگتے رہو خوابوں سے اٹھ رہا ہے دھواں جاگتے رہو ہیں شام کے نصیب میں تارے نہ آسماں رک سا گیا ہے قلب جہاں جاگتے رہو دل میں خیال ہے نہ نظر میں سوال ہے باقی نہیں ہے کوئی نشاں جاگتے رہو چاند اور ستارے ماند ہیں سورج بھی زرد زرد پھیکی پڑی ہے کاہکشاں جاگتے ...

    مزید پڑھیے

    فنا کے راستے پھولوں سے بھر گئے شاید

    فنا کے راستے پھولوں سے بھر گئے شاید ستارے منزل شب سے گزر گئے شاید نہ آہ دل میں نہ آنکھوں میں اشک باقی ہیں حواس رشتۂ غم پار کر گئے شاید جو نور بھرتے تھے ظلمات شب کے صحرا میں وہ چاند تارے فلک سے اتر گئے شاید مہکتے پھول جو یادوں میں مسکراتے تھے نفس کی تیز ہوا سے بکھر گئے شاید وفا ...

    مزید پڑھیے

    چراغ دنیا کے سارے بجھا کے چلتا ہوں

    چراغ دنیا کے سارے بجھا کے چلتا ہوں اندھیری رات میں اک دل جلا کے چلتا ہوں دکھائی دیتا ہے دروازۂ فنا مجھ کو میں سب حجاب نظر سے اٹھا کے چلتا ہوں دکھائی دیتے ہیں سارے خزانے دھرتی کے میں سارے سنگ رہوں کے ہٹا کے چلتا ہوں علم میں سر میرا کوئی اٹھائے گا کیوں کر میں خوان عزم میں سر کو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3