وفا نا آشناؤں میں وفا کی جستجو کب تک
وفا نا آشناؤں میں وفا کی جستجو کب تک دل سادہ مجھے رسوا کرے گا کو بہ کو کب تک ہوا ہے چاک جن ہاتھوں سے امیدوں کا پیراہن انہیں ہاتھوں کو ہم دیتے رہیں داد رفو کب تک بہر صورت دعاؤں پر مقدم ہے عمل زاہد خمیدہ سر کہاں تک ہاتھ مصروف وضو کب تک ہمیں اپنا مقدر اپنے ہاتھوں سے بنانا ہے کہاں ...