وفا نا آشناؤں میں وفا کی جستجو کب تک
وفا نا آشناؤں میں وفا کی جستجو کب تک
دل سادہ مجھے رسوا کرے گا کو بہ کو کب تک
ہوا ہے چاک جن ہاتھوں سے امیدوں کا پیراہن
انہیں ہاتھوں کو ہم دیتے رہیں داد رفو کب تک
بہر صورت دعاؤں پر مقدم ہے عمل زاہد
خمیدہ سر کہاں تک ہاتھ مصروف وضو کب تک
ہمیں اپنا مقدر اپنے ہاتھوں سے بنانا ہے
کہاں تک خود فراموشی فریب آرزو کب تک
بہاروں کو ترس جائے گا گلشن ہم نہ کہتے تھے
خزاں پروردہ ہاتھوں میں جہان رنگ و بو کب تک
کہاں تک عصمتیں نیلام ہوں گی بے سہاروں کی
بہے گا شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو کب تک
زمیں پھٹ جائے یا سر پر بلائے آسماں ٹوٹے
زباں بھی کھولیے فرحتؔ نظر سے گفتگو کب تک