Khaleel Farhat Karanjavi

خلیل فرحت کارنجوی

خلیل فرحت کارنجوی کے تمام مواد

7 غزل (Ghazal)

    وفا نا آشناؤں میں وفا کی جستجو کب تک

    وفا نا آشناؤں میں وفا کی جستجو کب تک دل سادہ مجھے رسوا کرے گا کو بہ کو کب تک ہوا ہے چاک جن ہاتھوں سے امیدوں کا پیراہن انہیں ہاتھوں کو ہم دیتے رہیں داد رفو کب تک بہر صورت دعاؤں پر مقدم ہے عمل زاہد خمیدہ سر کہاں تک ہاتھ مصروف وضو کب تک ہمیں اپنا مقدر اپنے ہاتھوں سے بنانا ہے کہاں ...

    مزید پڑھیے

    اور کب تک خوں فشاں موسم کا تیور دیکھنا

    اور کب تک خوں فشاں موسم کا تیور دیکھنا آگ برساتی نظر ہاتھوں میں خنجر دیکھنا چھین کر آنکھوں سے بینائی نہ لے جائے کہیں ہر طرف جلتی ہوئی لاشوں کا منظر دیکھنا آگ جب پھیلی تو ہمسائے کا گھر بھی جل گیا اس نے چاہا تھا مرا جلتا ہوا گھر دیکھنا اب کف افسوس کیا ملتا ہے ہم کہتے نہ تھے پاؤں ...

    مزید پڑھیے

    دل سے مرے تنہائی کی شدت نہیں جاتی

    دل سے مرے تنہائی کی شدت نہیں جاتی اب تو بھی چلا آئے تو وحشت نہیں جاتی اس دور کی تعلیم کا معیار عجب ہے تعلیم تو آتی ہے جہالت نہیں جاتی کیا سوچ کے امید وفا باندھی تھی تم سے اک عمر ہوئی دل کی ندامت نہیں جاتی مفلس بھی تو خوددار ہوا کرتے ہیں لوگو غربت میں بھی انساں کی شرافت نہیں ...

    مزید پڑھیے

    نظر کی روح کی دل کی صعوبتیں بھی گئیں

    نظر کی روح کی دل کی صعوبتیں بھی گئیں گیا شباب تو وہ ساری الجھنیں بھی گئیں گئی جوانی تو آئی شعور کی دولت قدم قدم پہ زمانے سے رنجشیں بھی گئیں شب وصال کا ارماں نہ فکر شام الم وہ کاروبار جنوں کی نوازشیں بھی گئیں سفید بال ہوئے تانک جھانک میں حائل کہاں کا شوق نظارہ بصارتیں بھی ...

    مزید پڑھیے

    سامنے سب مرے ہمدم و ہم نوا سب مگر پشت پر وار کرتے ہوئے

    سامنے سب مرے ہمدم و ہم نوا سب مگر پشت پر وار کرتے ہوئے دن میں پھولوں سے بھی نرم لہجہ مگر رات راہوں کو پر خار کرتے ہوئے صاف گوئی نے غم کے سوا کیا دیا پھر بھی ہم اپنی فطرت سے مجبور ہیں جو قصیدہ نویسی میں ماہر تھے وہ خوش ہیں توصیف سرکار کرتے ہوئے اپنے اپنے سفر پر ہیں کب سے رواں پھر ...

    مزید پڑھیے

تمام