قدم قدم کا علاقہ ہے ناروا تک ہے
قدم قدم کا علاقہ ہے ناروا تک ہے فسون جور و جفا پیشہ جا بجا تک ہے گر ایک بار کا ہونا الم غنیمت تھا ستم تو یہ ہے کہ در پیش بارہا تک ہے دئیے کی لو سے نہیں واسطہ کسی کا کوئی اگر کسی کا کوئی ہے تو پھر ہوا تک ہے عمل ہے خود پہ عمل دار تا دم موقوف اور اس کا رد عمل اپنے التوا تک ہے صدائے ...