Khaavar Jilani

خاور جیلانی

خاور جیلانی کی غزل

    قدم قدم کا علاقہ ہے ناروا تک ہے

    قدم قدم کا علاقہ ہے ناروا تک ہے فسون جور و جفا پیشہ جا بجا تک ہے گر ایک بار کا ہونا الم غنیمت تھا ستم تو یہ ہے کہ در پیش بارہا تک ہے دئیے کی لو سے نہیں واسطہ کسی کا کوئی اگر کسی کا کوئی ہے تو پھر ہوا تک ہے عمل ہے خود پہ عمل دار تا دم موقوف اور اس کا رد عمل اپنے التوا تک ہے صدائے ...

    مزید پڑھیے

    چلتے چلتے راہوں سے کٹ جانا پڑتا ہے

    چلتے چلتے راہوں سے کٹ جانا پڑتا ہے ہوتے ہوتے منظر سے ہٹ جانا پڑتا ہے دیکھنا پڑ جاتا ہے خود کو کر کے ایک تماشائی اپنی دھول اڑا کر خود اٹ جانا پڑتا ہے خطاطی سے دور بھٹکنے والے سوچ کے دامن کو کورے کاغذ کے ہاتھوں پھٹ جانا پڑتا ہے سازینہ جب قدم بڑھاتا ہے اس کی پازیبوں کا کانوں کو ...

    مزید پڑھیے

    ہنگام ہوس کار محبت کے لیے ہے

    ہنگام ہوس کار محبت کے لیے ہے ہے جو بھی کشاکش وہ ندامت کے لیے ہے جینا تو الگ بات ہے مرنا بھی یہاں پر ہر شخص کی اپنی ہی ضرورت کے لیے ہے ملنے تجھے آیا ہوں نہ ملنے کے لیے ہی آمد یہ مری اصل میں رخصت کے لیے ہے آخر کو یہی کار گریٔ برف پگھل کر موجوں کے توسل سے حرارت کے لیے ہے میں ہاتھ نہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2