ملا تھا کوئی سر راہ اجنبی کی طرح
ملا تھا کوئی سر راہ اجنبی کی طرح عزیز لگتا ہے جو مجھ کو زندگی کی طرح وہ ایک شخص اندھیروں میں جس نے چھوڑ دیا وہ اب بھی رہتا ہے آنکھوں میں روشنی کی طرح یہ آرزو مری برسوں کی ہے کہ آپ ملیں فرشتہ بن کے نہیں بن کے آدمی کی طرح سمیٹ رکھا تھا جس کہکشاں کو دامن میں وہ گھر میں اتری ہے اک ...